سعودی عرب کا نیا ویزہ پالیسی پلان: ورک پرمٹ کے اجراء میں بڑی تبدیلیاں متوقع

Oplus_16908288
8 / 100 SEO Score

غیر ملکی کارکنوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع، کفالت نظام میں اصلاحات زیر غور

 

 

 

ریاض: غیر ملکی محنت کشوں کے لیے خوشخبری

 

سعودی عرب کی وزارتِ انسانی وسائل اور سماجی ترقی نے اعلان کیا ہے کہ ورک پرمٹ کے اجراء کے نظام میں بڑی سطح پر تبدیلیاں متوقع ہیں۔ یہ نئی پالیسیز سعودی وژن 2030 کے تحت بنائی جا رہی ہیں، جن کا مقصد نہ صرف معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے بلکہ غیر ملکی افرادی قوت کے لیے شفاف اور منصفانہ مواقع فراہم کرنا بھی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق حکومت موجودہ کفالت (سپانسرشپ) نظام میں نرمی اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ورک پرمٹ کا عمل زیادہ شفاف اور آسان بنانے پر غور کر رہی ہے۔

 

 

 

اہم نکات:

 

نئی پالیسی کے تحت غیر ملکی کارکن اب آجر کی اجازت کے بغیر بھی ملازمت تبدیل کر سکیں گے

 

ورک پرمٹ کے حصول کے عمل کو مکمل طور پر آن لائن کیا جائے گا

 

ملازمین کو بہتر معاہدے اور سہولیات دی جائیں گی

 

ورک ویزہ کی میعاد اور تجدید کے عمل کو آسان اور خودکار بنایا جا رہا ہے

 

“اسمارٹ لیبر کنٹریکٹس” کے نفاذ کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے

 

 

 

 

پاکستانی ورکرز کے لیے بڑی خبر

 

پاکستانی شہری جو سعودی عرب میں روزگار کے خواہشمند ہیں، ان کے لیے یہ پالیسی نیا موقع بن کر سامنے آئی ہے۔

اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز (OEPs) اور پاکستانی وزارتِ اوورسیز نے بھی سعودی وزارت کے ساتھ رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ نئی پالیسیز سے پاکستانی ورکرز کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔

 

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیوں نے کہا:

 

> “سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی ہنرمندوں اور محنت کشوں کے لیے یہ پالیسی مثبت پیش رفت ہے۔ ہم سعودی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔”

 

 

 

 

 

نیا سسٹم: ملازمت کی شفاف منتقلی

 

ماضی میں سعودی عرب میں ورک پرمٹ صرف کفیل (سپانسر) کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا تھا، جس سے ملازمین کی آزادی محدود تھی۔ اب نئی پالیسی میں:

 

کفالت کے بغیر ملازمت کی تبدیلی ممکن ہو گی

 

معاہدے کے اختتام پر نیا ورک پرمٹ فوری جاری کیا جا سکے گا

 

کفیل کے استحصال کی روک تھام ہو گی

 

 

یہ تبدیلیاں صرف ورک ویزوں کے نظام تک محدود نہیں بلکہ رہائشی پرمٹ (اقامہ)، بیمہ، اور سوشل سیکورٹی نظام کو بھی جدید بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

 

 

 

سعودی وژن 2030 اور غیر ملکی ورکرز

 

سعودی حکومت “وژن 2030” کے تحت تیل پر انحصار کم کرنے اور انسانی وسائل کی ترقی کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس وژن کے تحت:

 

ہنرمند اور تعلیم یافتہ افرادی قوت کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے

 

انفارمیشن ٹیکنالوجی، ہیلتھ کیئر، کنسٹرکشن، اور لاجسٹکس کے شعبوں میں نئی بھرتیوں کا امکان ہے

 

غیر ملکی کارکنوں کو جدید ہنر سکھانے کے لیے ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹس کے قیام کا بھی عندیہ دیا گیا ہے

 

 

 

 

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون

 

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دو طرفہ لیبر معاہدے بھی بہتر ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں سعودی حکومت نے:

 

پاکستانی ورکرز کی رجسٹریشن اور مانیٹرنگ کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کام تیز کر دیا ہے

 

پاکستان کے نیشنل ویری فکیشن سسٹم (NVS) کے ذریعے ورکرز کی جانچ پڑتال پر اتفاق کیا ہے

 

نئی ویزہ پالیسی میں پاکستانی افرادی قوت کے لیے خصوصی کوٹہ مختص کرنے کی تجویز دی ہے

 

 

 

 

ممکنہ چیلنجز

 

اگرچہ پالیسی میں اصلاحات کی بات ہو رہی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق:

 

عملی نفاذ میں وقت لگ سکتا ہے

 

کفیل نظام کے مکمل خاتمے میں مزاحمت ہو سکتی ہے

 

بھرتی ایجنسیوں کے کردار پر نظر رکھنا ضروری ہوگا

 

 

اس حوالے سے سعودی وزارت نے واضح کیا ہے کہ پالیسیوں کا نفاذ تدریجی اور شفافیت پر مبنی ہوگا، تاکہ تمام فریقین کا اعتماد قائم رہ سکے۔

 

 

 

نتیجہ

 

سعودی عرب کی نئی ویزہ اور ورک پرمٹ پالیسی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جہاں سے بڑی تعداد میں محنت کش سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔ پاکستانی ورکرز کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ وہ ہنرمندی اور شفاف بھرتی کے ذریعے مستقبل کے بہتر مواقع حاصل کریں۔

 

نوٹ: یہ خبر عوامی مفاد میں فراہم کی گئی ہے۔ اس میں شامل معلومات دستیاب ذرائع، رپورٹس یا عوامی بیانات پر مبنی ہیں۔ ادارہ اس خبر میں موجود کسی بھی دعوے یا رائے کی تصدیق یا تردید کا ذمہ دار نہیں ہے۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ حکام یا مستند ذرائع سے رجوع کریں۔