دنیا کی مشہور الیکٹرک کار ساز کمپنی “ٹیسلا” نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایشیاء میں اپنی پیداوار کو وسعت دینے کے لیے ایک نیا مینوفیکچرنگ پلانٹ قائم کرنے پر غور کر رہی ہے، اور پاکستان بھی ان تین ممکنہ امیدوار ممالک میں شامل ہے جہاں کمپنی یہ نیا پلانٹ قائم کر سکتی ہے۔
کن کن ممالک پر غور ہو رہا ہے؟
ذرائع کے مطابق ٹیسلا انتظامیہ پاکستان، انڈونیشیا اور ویتنام کو اس منصوبے کے لیے ابتدائی فہرست میں شامل کر چکی ہے۔ تینوں ممالک میں قابلِ ذکر لیبر مارکیٹ، ابھرتی ہوئی معیشت اور سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع کمپنی کے لیے کشش کا باعث بنے ہیں۔
پاکستان کا فائدہ کیا؟
پاکستان میں موجود توانائی کے متبادل ذرائع، ہنر مند لیبر فورس اور بہتر ہوتے تجارتی ضوابط نے اسے ٹیسلا کے لیے ایک پرکشش مقام بنا دیا ہے۔ اگر یہ پلانٹ پاکستان میں قائم ہوتا ہے، تو اس سے ملکی معیشت کو درج ذیل فوائد حاصل ہو سکتے ہیں:
ممکنہ فائدے تفصیل
روزگار ہزاروں نوکریوں کے مواقع
مقامی صنعت آٹو موبائل سپلائی چین کی ترقی
برآمدات ای وی ایکسپورٹس میں اضافہ
جدید ٹیکنالوجی گرین ٹیکنالوجی کی منتقلی
ایلون مسک کا وژن
ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے ایک حالیہ کانفرنس میں کہا،
> “ہم دنیا کو کاربن فری معیشت کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں نئی مارکیٹس میں جانا ہوگا اور مقامی سطح پر پیداوار کو فروغ دینا ہوگا۔”
یہ بیان واضح کرتا ہے کہ ایشیاء میں پلانٹ کا قیام نہ صرف تجارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے بلکہ ماحولیاتی اہداف کی تکمیل کی ایک کوشش بھی ہے۔
کیا پاکستان تیار ہے؟
ماہرین کے مطابق اگر پاکستان ٹیسلا کے معیار کے مطابق بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر)، پالیسی سپورٹ اور تکنیکی سہولیات فراہم کر پائے، تو یہ موقع ملک کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار نے بھی عندیہ دیا ہے کہ حکومت اس موقع کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
نتیجہ
ٹیسلا کی توسیعی منصوبہ بندی نے پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع پیدا کر دیا ہے۔ اگر مناسب حکمتِ عملی اپنائی جائے تو پاکستان ایشیاء میں ای وی (الیکٹرک وہیکل) مینوفیکچرنگ کا نیا مرکز بن سکتا ہے۔ وقت بتائے گا کہ پاکستان ٹیسلا کی نظر میں خود کو کیسے نمایاں کر پاتا ہے۔















Leave a Reply