ایک اور انکشاف، ایک اور بحران
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے اپنے اہم اداروں اور شخصیات کی ڈیجیٹل نگرانی کے شواہد ملے ہیں، جن کے پیچھے مبینہ طور پر بھارت سے چلنے والے جاسوسی سافٹ ویئرز کارفرما ہیں۔ تہران میں سائبر سیکیورٹی کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق یہ سافٹ ویئرز نہ صرف ای میلز بلکہ موبائل ڈیٹا، سرکاری فائلز اور انٹرنل کمیونیکیشن تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔
ایرانی سائبر سیکیورٹی آرگنائزیشن نے ابتدائی تحقیقات میں کئی “مشکوک ٹولز” اور “فشنگ کوڈز” کی نشاندہی کی ہے، جنہیں بھارت سے منسلک سائبر نیٹ ورکس کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔
—
ٹارگٹ کون تھے؟
رپورٹ کے مطابق بھارتی ساختہ جاسوسی سافٹ ویئرز کے ذریعے جن اداروں کو نشانہ بنایا گیا، ان میں شامل ہیں:
ایرانی وزارتِ خارجہ
جوہری توانائی کا ادارہ
اعلیٰ عسکری اور دفاعی مشیر
انفراسٹرکچر اور انرجی پروجیکٹس سے وابستہ انجینئرز
سائبر ریسرچ سینٹرز
یہ سافٹ ویئرز مختلف “میل ویئرز” اور “بیک ڈور ایپلیکیشنز” کے ذریعے اہم حکومتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرتے رہے۔
—
بھارت کی مبینہ سائبر حکمتِ عملی
ایران کے مطابق یہ کارروائیاں “غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی” کا حصہ ہیں، جنہیں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سرانجام دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی کچھ پرائیویٹ آئی ٹی کمپنیاں براہ راست حکومتی اداروں سے وابستہ دکھائی دیتی ہیں، اور ان کا مقصد مخصوص جغرافیائی مفادات حاصل کرنا ہے۔
یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران، چین، روس اور دیگر ممالک کی جانب سے امریکی اور بھارتی ڈیجیٹل پالیسیوں پر پہلے ہی تحفظات موجود ہیں۔
—
عالمی ردعمل اور خدشات
بین الاقوامی سیکیورٹی ماہرین اس انکشاف کو “سائبر جنگ کا ایک نیا باب” قرار دے رہے ہیں۔ اگر ایران یہ شواہد اقوام متحدہ یا دیگر بین الاقوامی فورمز پر پیش کرتا ہے، تو بھارت کو شدید سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسی تناظر میں مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک نے اپنی ڈیجیٹل پالیسیوں پر نظرثانی شروع کر دی ہے، تاکہ وہ بھی کسی “ڈیجیٹل حملے” کا شکار نہ ہوں۔
—
ایران کا ممکنہ ردعمل
ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
> “ہم کسی بھی ملک کو اپنی سالمیت اور سیکیورٹی کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اگر یہ الزامات ثابت ہوئے، تو ایران عالمی سطح پر بھارتی جارحیت کو بے نقاب کرے گا۔”
ایرانی میڈیا میں بھی اس وقت بھارت کے خلاف بیانات کی لہر نظر آ رہی ہے، اور کئی تجزیہ کار اسے “ڈیجیٹل صہیونیت” سے تعبیر کر رہے ہیں، جس کا مقصد ایران کو اندرونی طور پر کمزور کرنا ہے۔
—
بھارت کی جانب سے خاموشی
تاحال بھارتی وزارتِ خارجہ یا کسی سرکاری ادارے کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم بعض بھارتی سائبر ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران “سیاسی فوائد” کے لیے ایسی خبریں پھیلا رہا ہے۔
—
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ڈیجیٹل سیکیورٹی کے بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ الزام غیر معمولی سنجیدگی کا حامل ہے، اور اگر ایران واقعی شواہد سامنے لاتا ہے تو یہ معاملہ G20 اور UN سطح پر زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔
—
نتیجہ: مستقبل کی جنگیں ڈیجیٹل محاذ پر
اس واقعے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے کہ مستقبل کی جنگیں بندوق یا بم سے نہیں بلکہ کوڈ، سافٹ ویئر اور ڈیٹا کے ذریعے لڑی جائیں گی۔ ایران اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی سائبر دفاعی پالیسیوں میں نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔















Leave a Reply