— مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی آگ مزید بھڑک گئی جب ایرانی قومی سلامتی کے سینئر رکن جنرل محسن رضائی نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے ایران کو غیر رسمی طور پر یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران پر ایٹمی حملہ کیا تو پاکستان اسرائیل پر جوابی ایٹمی حملہ کرے گا۔
یہ بیان عالمی سفارتی حلقوں میں زلزلے کی طرح آیا ہے، جس کے بعد مسلم دنیا میں جوش و خروش جبکہ مغربی دنیا میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
—
🇮🇷 پس منظر: ایران اور اسرائیل میں کشیدگی
گزشتہ کچھ ہفتوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تعلقات نہایت حد تک خراب ہو چکے ہیں۔ ایران نے اسرائیل پر کئی میزائل حملے کیے، جبکہ اسرائیل نے ایران کے اندرونی علاقوں میں خفیہ حملے اور سائبر وارفیئر کی کارروائیاں کیں۔
حالیہ صورتحال:
ایران کے کئی سٹریٹیجک مراکز کو اسرائیل نے نشانہ بنایا۔
ایران نے اسرائیل کے فوجی اڈوں اور شہروں پر بیلسٹک و ہائپر سونک میزائل داغے۔
اسرائیل کی طرف سے ایٹمی حملے کی دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
—
🧨 پاکستان کی ممکنہ شمولیت: جنرل محسن رضائی کا انکشاف
ایرانی قومی سلامتی کے سینئر رکن جنرل محسن رضائی نے ایران کے سرکاری ٹی وی چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا:
> “پاکستان نے ایران کو غیر رسمی طور پر یقین دہانی کروائی ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران پر ایٹمی حملہ کیا تو پاکستان خاموش نہیں بیٹھے گا، بلکہ ایٹمی ہتھیاروں کے ذریعے فوری اور بھرپور ردعمل دے گا۔”
یہ بیان مسلم امہ میں اتحاد کے ایک نئے باب کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔
—
📌 آرٹیکل میں اہم نکات
✅ پاکستان کا ایٹمی مؤقف:
پاکستان نے ہمیشہ اپنی ایٹمی طاقت کو دفاعی ہتھیار قرار دیا ہے، مگر خطے میں مسلمانوں پر ایٹمی حملے کی صورت میں پاکستان کا مؤقف واضح ہوتا جا رہا ہے۔
✅ ایران کا پاکستان پر اعتماد:
جنرل محسن رضائی نے مزید کہا کہ:
> “ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان جیسے ایٹمی ملک نے ہمارے ساتھ کھڑے ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ مسلم اتحاد کا عملی مظاہرہ ہے۔”
✅ سفارتی ذرائع کا تجزیہ:
بعض دفاعی اور سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ:
یہ پیغام غیر رسمی چینل سے دیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان نے سرکاری سطح پر کوئی تحریری معاہدہ نہیں کیا۔
تاہم، خفیہ فوجی اور انٹیلیجنس رابطوں کے ذریعے یہ پیغام ایرانی قیادت تک پہنچایا گیا۔
—
🌐 عالمی ردعمل
🇺🇸 امریکہ:
امریکی محکمہ خارجہ نے فوری طور پر اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا:
> “پاکستان کا ایسا مؤقف خطے میں ایٹمی جنگ کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ ہم تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔”
🇮🇳 بھارت:
بھارتی میڈیا میں اس بیان کو شدید تشویش سے دیکھا جا رہا ہے، اور بھارتی حکومت پاکستان پر نظر رکھنے کے لیے سکیورٹی اداروں کو الرٹ کر چکی ہے۔
🇸🇦 سعودی عرب، ترکی، قطر:
سعودی عرب اور ترکی نے ایران اور پاکستان کے درمیان اس تعاون کو خوش آئند قرار دیا ہے، جبکہ قطر نے بھی مسلم ممالک کے اتحاد کی حمایت کی ہے۔
—
📊 مختصر تجزیاتی جدول
پہلو تفصیل
بیان دینے والا جنرل محسن رضائی (سینئر رکن، ایرانی قومی سلامتی کونسل)
بیان کا موضوع اسرائیل کی جانب سے ایٹمی حملے کی صورت میں پاکستان کا ممکنہ ردعمل
پاکستان کا مؤقف ایران پر حملے کی صورت میں اسرائیل پر ایٹمی حملہ
بیان کی نوعیت غیر رسمی، مگر سنجیدہ اور بامعنی
عالمی ردعمل امریکہ، بھارت میں تشویش، مسلم دنیا میں حمایت
اثرات مسلم اتحاد میں مضبوطی، خطے میں کشیدگی میں اضافہ
—
🧠 ماہرین کا تبصرہ
عالمی اُمور کے ماہر ڈاکٹر اجمل قریشی کے مطابق:
> “پاکستان کا یہ غیر رسمی مؤقف ایٹمی توازن کے اصولوں کے خلاف نہیں، بلکہ ایک روایتی ڈیٹرنس (deterrence) کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد ایران کو اسرائیلی جارحیت سے بچانا ہے۔”
—
🔮 ممکنہ نتائج و خطرات
خطے میں ایٹمی جنگ کے امکانات میں اضافہ
پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ میں شدت
اسرائیل اور مغربی دنیا کی جانب سے پاکستان پر پابندیوں کا خطرہ
مسلم امہ میں پاکستان کی قیادت کا تاثر مزید مضبوط















Leave a Reply