اسرائیل کا ایران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملہ — اہم جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ، خطے میں کشیدگی نئی انتہاؤں کو چھو گئی

Oplus_16908288
6 / 100 SEO Score

مشرق وسطیٰ کی فضا ایک بار پھر دھماکوں سے گونج اٹھی جب اسرائیل نے ایران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل حملہ کیا۔ اسرائیلی دفاعی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی میں ایران کے ایک “انتہائی اہم فوجی جہاز” کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکومت نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے “ایران کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ” قرار دیا ہے۔

 

🌍 پس منظر: کشیدگی کی بنیاد کہاں سے پڑی؟

 

گزشتہ چند ہفتوں سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری خفیہ جنگ کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ ایران کی جانب سے اسرائیلی تنصیبات پر راکٹ حملوں اور اسرائیلی انٹیلی جنس کی ایران میں مبینہ تخریب کاری کے بعد حالات سنگین ہو چکے ہیں۔ تازہ حملے کے بعد نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی خطرے کی گھنٹیاں بج گئی ہیں۔

 

 

 

📍 حملہ کب اور کیسے ہوا؟

 

ذرائع کے مطابق حملہ 5 جون 2025 کی رات تقریباً 2:30 بجے تہران کے قریب واقع ایک بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کیا گیا۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے مبینہ طور پر کروز میزائلوں کے ذریعے ٹارگٹ کیے گئے مخصوص ہینگر کو نشانہ بنایا جہاں ایران کا ایک اہم ٹرانسپورٹ یا نگرانی کا جہاز موجود تھا۔

 

اسرائیلی دعویٰ:

 

> “ہم نے ایران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ایک حساس طیارے کو نشانہ بنایا، جو مستقبل میں اسرائیل کے خلاف بڑے آپریشنز کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔”

 

 

 

 

 

📌 حملے کے اثرات اور زمینی صورتحال

 

🛬 ہوائی اڈے کی تباہی:

 

حملے کے بعد ہوائی اڈے پر شدید آگ بھڑک اٹھی، جسے بجھانے میں فائر بریگیڈ کو کئی گھنٹے لگے۔

 

تین جہاز مکمل طور پر جل گئے، جن میں سے ایک فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

 

رن وے کو بھی معمولی نقصان پہنچا جس کے باعث پروازوں کی آمد و رفت عارضی طور پر معطل رہی۔

 

 

👥 جانی و مالی نقصان:

 

ایرانی میڈیا کے مطابق، 6 افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

 

ابتدائی اندازے کے مطابق اربوں ریال کا مالی نقصان ہوا ہے۔

 

 

 

 

🇮🇷 ایران کا ردعمل

 

ایرانی وزارت خارجہ نے فوری طور پر اسرائیل پر جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ترجمان نے کہا:

 

> “ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی کا سخت جواب دیا جائے گا۔ یہ حملہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے امن پر حملہ ہے۔”

 

 

 

پاسداران انقلاب کا اعلان:

 

ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC) کے کمانڈر جنرل محمد رضا نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا:

 

> “اسرائیل کو اس احمقانہ حرکت کی بھاری قیمت چکانی ہو گی۔ ہم جواب دیں گے — جلد اور فیصلہ کن۔”

 

 

 

 

 

🌐 عالمی ردعمل

 

🇺🇸 امریکہ:

 

امریکہ نے بظاہر اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے ایران کو “اشتعال انگیزیوں” سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا بیان:

 

> “ہم اسرائیل کے دفاع کا حق تسلیم کرتے ہیں، مگر خطے میں تنازع سے بچنا چاہتے ہیں۔”

 

 

 

🇷🇺 روس اور 🇨🇳 چین:

 

روس اور چین نے اس حملے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک نے مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی پر زور دیتے ہوئے اسرائیل سے کارروائیاں روکنے اور ایران سے تحمل کی اپیل کی ہے۔

 

 

 

📊 حملے کا مختصر تجزیہ (ٹیبل)

 

عنصر تفصیل

 

حملے کی جگہ تہران کے قریب بین الاقوامی ہوائی اڈہ

حملے کا وقت 5 جون 2025 — رات 2:30 بجے

ذمہ دار ملک اسرائیل

نشانہ بننے والی چیزیں 1 فوجی طیارہ (مبینہ طور پر) + 2 عام طیارے

جانی نقصان 6 افراد زخمی

مالی نقصان اربوں ریال

ایران کا موقف جارحیت، سخت ردعمل کی دھمکی

عالمی ردعمل امریکہ کی حمایت، چین و روس کی مذمت

 

 

 

 

📢 مستقبل کے خطرات: کیا نیا محاذ کھلنے والا ہے؟

 

ماہرین کے مطابق اگر ایران نے اس حملے کا براہِ راست بدلہ لینے کا اعلان کیا تو مشرق وسطیٰ میں مکمل جنگ کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایران پہلے ہی “وعدہ صادق آپریشن” کے تحت اسرائیلی فوجی اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے، اور اس تازہ حملے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

 

 

نوٹ: یہ خبر عوامی مفاد میں فراہم کی گئی ہے۔ اس میں شامل معلومات دستیاب ذرائع، رپورٹس یا عوامی بیانات پر مبنی ہیں۔ ادارہ اس خبر میں موجود کسی بھی دعوے یا رائے کی تصدیق یا تردید کا ذمہ دار نہیں ہے۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ حکام یا مستند ذرائع سے رجوع کریں۔