دنیا بھر سے ہزاروں افراد پر مشتمل ایک عظیم انسانی قافلہ غزہ کی جانب روانہ ہو چکا ہے، جس کا مقصد اسرائیلی محاصرے کو توڑ کر غزہ کے مظلوم عوام تک براہِ راست انسانی امداد پہنچانا ہے۔ اس تاریخی قافلے میں افریقہ، یورپ، مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں سے رضاکار شامل ہیں جو مصر کے راستے غزہ میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔
قافلے کی تفصیلات — تاریخ رقم ہونے کو ہے
اس قافلے کی روانگی ایک منظم منصوبے کے تحت ہوئی ہے۔ تین ہزار سے زائد گاڑیاں الجزائر، تیونس، لیبیا اور مراکش جیسے ممالک سے قاہرہ کی طرف روانہ ہو چکی ہیں۔ اسی دوران یورپی ممالک سے رضاکار بڑی تعداد میں ہوائی جہازوں کے ذریعے مصر پہنچ رہے ہیں۔ قافلے کا ارادہ ہے کہ رفح بارڈر کراس کرکے غزہ میں داخل ہوا جائے، جہاں وہ براہِ راست انسانی امداد پہنچائیں گے۔
مصر کا موقف: اجازت کے بغیر آگے بڑھنے کی اجازت نہیں
مصر نے واضح کیا ہے کہ قافلے کو صرف اس صورت میں رفح بارڈر عبور کرنے دیا جائے گا جب وہ متعلقہ سرکاری اداروں سے باقاعدہ اجازت حاصل کرے۔ مصری حکام کی جانب سے قافلے کے منتظمین سے بات چیت جاری ہے۔
اسرائیل کا ردعمل: خطرناک الزام تراشی
دوسری جانب اسرائیل نے اس قافلے کو “جہادیوں کا قافلہ” قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ محض امدادی مشن نہیں بلکہ اس کے پیچھے عسکری عزائم بھی پوشیدہ ہو سکتے ہیں۔ تاہم قافلے کے رہنماؤں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا واحد مقصد غزہ کے مظلوم عوام تک خوراک، دوا، اور ہمدردی پہنچانا ہے۔
قافلے کے اہم نکات (تفصیل جدول میں)
عنصر تفصیل
قافلے میں شامل افراد ہزاروں رضاکار دنیا بھر سے
گاڑیاں 3000 سے زائد، الجزائر، تیونس، لیبیا سے روانہ
یورپی شمولیت لوگ ہوائی جہازوں سے مصر پہنچ رہے ہیں
قافلے کا راستہ مصر سے رفح بارڈر عبور کر کے غزہ
مصر کا مطالبہ قافلے کو متعلقہ اداروں سے اجازت درکار
اسرائیلی مؤقف قافلہ جہادیوں پر مشتمل ہونے کا الزام
قافلے کا اصل مقصد انسانی امداد پہنچانا، محاصرہ توڑنا
عالمی برادری کی نظریں قافلے پر مرکوز
یہ انسانی قافلہ اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر “FreeGazaConvoy#” اور “MarchToGaza#” جیسے ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہو چکے ہیں۔ معروف شخصیات اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قافلے کی حمایت میں بیانات دے رہی ہیں۔
غزہ کے عوام کی امیدیں وابستہ
غزہ کے مقامی شہریوں نے اس قافلے کو زندگی کی ایک نئی امید قرار دیا ہے۔ محاصرے، بمباری اور قحط سے دوچار عوام اس امید میں ہیں کہ یہ قافلہ ان کے لیے دوائی، خوراک اور حوصلہ لے کر آئے گا۔















Leave a Reply