مشہور سوشل میڈیا شخصیت رجب بٹ اور اس کے چار ساتھیوں کے خلاف ٹک ٹاکر خاتون سے مبینہ جنسی زیادتی کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی ہے۔ تحقیقات اب نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جبکہ پولیس ذرائع کے مطابق کچھ “ناقابل تردید شواہد” بھی حاصل کر لیے گئے ہیں، جن کی بنیاد پر عدالت میں چالان جلد پیش کیا جا سکتا ہے۔
پس منظر: ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کیس منظر عام پر آیا
یہ کیس اس وقت خبروں میں آیا جب متاثرہ خاتون ٹک ٹاکر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں اس نے رجب بٹ اور اس کے ساتھیوں پر جنسی زیادتی، تشدد اور بلیک میلنگ کا الزام عائد کیا۔ ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا صارفین میں شدید غم و غصہ دیکھا گیا، اور سوشل پریشر کے نتیجے میں پولیس نے فوری مقدمہ درج کر لیا۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات اور گرفتاریاں
پولیس نے متاثرہ خاتون کی شکایت پر رجب بٹ سمیت پانچ ملزمان کے خلاف دفعہ 376 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا۔
ابتدائی تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق:
متاثرہ خاتون کو “برانڈ پروموشن” کے بہانے بلایا گیا۔
واقعہ ایک پرائیویٹ فارم ہاؤس میں پیش آیا۔
موبائل فونز سے قابل اعتراض ویڈیوز بھی برآمد ہوئیں۔
رجب بٹ کے دو قریبی ساتھیوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔
مقدمے کی موجودہ صورتحال (جدول کی صورت میں)
ملزم کا نام گرفتاری کی صورتحال جرم کی نوعیت قانونی دفعہ
رجب بٹ زیر تفتیش جنسی زیادتی، بلیک میلنگ 376/506
وسیم بٹ گرفتار معاونت و سازش 109/376
علی خان مفرور شریک جرم 376
زوہیب اعوان گرفتار ویڈیو ریکارڈنگ میں ملوث 67-C PECA
فرحان اکرم زیر تفتیش تشدد، بلیک میلنگ 506
تحقیقات میں پیشرفت:
متاثرہ خاتون کا میڈیکل کرایا گیا، جس کی ابتدائی رپورٹ میں زبردستی کی تصدیق ہوئی ہے۔
فارنسک لیبارٹری کو ڈیجیٹل شواہد بھجوائے گئے ہیں۔
پولیس کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔
جوڈیشل ریمانڈ پر موجود ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔
عوامی ردعمل اور سوشل میڈیا پریشر
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ #JusticeForTikToker ٹاپ ٹرینڈ رہا، اور ہزاروں صارفین نے جلد انصاف کا مطالبہ کیا۔ سوشل میڈیا پر دباؤ کے نتیجے میں اعلیٰ سطحی افسران نے بھی نوٹس لیا، اور فیڈرل سائبر کرائم یونٹ کو تفتیش میں شامل کر لیا گیا ہے۔
عدالتی پیش رفت اور ممکنہ کارروائی
ذرائع کے مطابق، اگر اگلے چند دنوں میں تمام ڈیجیٹل شواہد اور میڈیکل رپورٹس حتمی طور پر جمع ہو جاتی ہیں تو استغاثہ اگلے ہفتے عدالت میں چالان پیش کرے گا۔ اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ملزمان کو عمر قید یا سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
—















Leave a Reply