مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے لیے ایک اور بری خبر! حکومت پاکستان نے آن لائن شاپنگ پر بھی 18 فیصد جی ایس ٹی (جنرل سیلز ٹیکس) نافذ کر دیا ہے، جس کا اطلاق تمام ای کامرس پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیسز پر ہو چکا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف آن لائن خریداروں بلکہ چھوٹے کاروباری افراد کو بھی پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔
—
💻 ڈیجیٹل خریداروں کو جھٹکا: قیمتوں میں اچانک اضافہ
آن لائن آرڈرز جیسے:
کپڑے
جوتے
موبائل فونز اور الیکٹرانکس
کاسمیٹکس و بیوٹی پروڈکٹس
کھلونے، تحائف، ہوم ڈیلیوری سروسز
اب ان سب پر 18٪ ٹیکس لاگو ہوگا، جس کا مطلب ہے کہ اگر آپ 10,000 روپے کی شاپنگ کرتے ہیں، تو آپ کو اب 11,800 روپے ادا کرنے ہوں گے۔
—
📊 جی ایس ٹی کے نئے اطلاق کا تقابلی جائزہ
آئٹم کی قیمت پرانا بل (بغیر ٹیکس) نیا بل (18٪ ٹیکس کے بعد)
2,000 روپے 2,000 روپے 2,360 روپے
5,000 روپے 5,000 روپے 5,900 روپے
10,000 روپے 10,000 روپے 11,800 روپے
20,000 روپے 20,000 روپے 23,600 روپے
—
📦 ای کامرس پلیٹ فارمز کیلئے دھچکہ؟
کاروباری ماہرین کا کہنا ہے کہ:
> “یہ ٹیکس نہ صرف صارفین کو متاثر کرے گا بلکہ چھوٹے آن لائن کاروبار جو درزی، خواتین ہنر مند، اور گھریلو مصنوعات بیچنے والے افراد چلاتے ہیں، ان کی سیلز میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔”
درآمدی آن لائن آئٹمز پر بھی یہ ٹیکس لاگو ہوگا، جو کہ پہلے ہی مہنگے داموں فروخت ہو رہے تھے۔
—
📱 سوشل میڈیا پر عوام کا ردِعمل
سوشل میڈیا پر صارفین نے شدید برہمی کا اظہار کیا:
> “آن لائن خریداری تو سہولت تھی، اب یہ بھی عیاشی بن گئی!”
“حکومت ہر جگہ سے پیسے نچوڑنے پر لگی ہے، عام آدمی کا کیا بنے گا؟”
—
💼 حکومتی مؤقف: ریونیو بڑھانے کی مجبوری
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ:
> “ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے ہمیں ڈیجیٹل مارکیٹ سے بھی ریونیو حاصل کرنا ہوگا۔ دنیا بھر میں ای کامرس پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے، پاکستان میں اب اس کو ریگولیٹ کیا جا رہا ہے۔”
—
🔍 قانونی پہلو اور صارفین کیلئے احتیاطی تدابیر
ہر ویب سائٹ پر اب قیمت کے ساتھ ساتھ ٹیکس کا اندراج لازم ہوگا۔
کسٹمرز کو آرڈر دینے سے پہلے ٹیکس ڈیٹیلز چیک کرنا ہوں گی۔
ری فنڈ پالیسیز بھی ٹیکس کے ساتھ مشروط ہوں گی۔
—
🤔 یہ عوامی سہولت ہے یا نیا بوجھ؟
یہ فیصلہ ایک طرف تو قومی خزانے کے لیے ریونیو بڑھا سکتا ہے، مگر دوسری جانب:
دیہی علاقوں میں آن لائن خریداری کی رفتار سست ہو سکتی ہے
فری لانسرز اور چھوٹے کاروباری طبقے کی آمدن متاثر ہو سکتی ہے
ڈیجیٹل اکانومی کا فروغ رک سکتا ہے
—
📢 نتیجہ: ڈیجیٹل زندگی بھی اب سستی نہیں رہی
اب عوام کو فزیکل مارکیٹ اور آن لائن مارکیٹ دونوں جگہ سوچ سمجھ کر خرچ کرنا ہوگا۔ ای کامرس کی دنیا جہاں ایک طرف سہولت دیتی ہے، وہیں اب ٹیکس کی صورت میں اضافی بوجھ بھی ڈالے گی۔















Leave a Reply