خاندانی جھگڑا یا انتقامی جنون؟ حاصل پور کے چک مرید میں لرزہ خیز واقعہ
حاصل پور، ضلع بہاولپور کی تحصیل، اس وقت سراپا حیرت بن گئی جب چک مرید میں گھریلو تنازع کے نتیجے میں ایک خاتون نے طیش میں آ کر اپنی سگی بہن پر فائرنگ کر دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں بہنوں کے درمیان کئی دنوں سے ذاتی اور خاندانی نوعیت کے جھگڑے چل رہے تھے، جو بالآخر ایک افسوسناک واقعے پر منتج ہوئے۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب گھریلو تلخ کلامی کے دوران ایک بہن نے گھر میں موجود پسٹل اٹھایا اور غصے میں آ کر سیدھا دوسری بہن کی کمر میں گولی مار دی۔ گولی لگنے سے متاثرہ بہن شدید زخمی ہو گئی۔
—
🚑 ریسکیو کا فوری رسپانس
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کا عملہ موقع پر پہنچا۔ طبی عملے نے موقع پر ہی زخمی خاتون کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور بعد ازاں اسے فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال حاصل پور منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
—
🔎 پولیس کارروائی اور ابتدائی تحقیقات
حاصل پور پولیس کے ترجمان کے مطابق:
> “واقعے کی مکمل جانچ جاری ہے۔ جائے وقوعہ سے پسٹل قبضے میں لے لیا گیا ہے، اور ملزمہ کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔”
ابتدائی طور پر پولیس کا ماننا ہے کہ:
تنازع ذاتی نوعیت کا تھا
ملزمہ ذہنی دباؤ اور غصے کا شکار تھی
واقعہ غیر ارادی طور پر پیش آیا یا منصوبہ بندی کے تحت، اس پہلو پر تفتیش جاری ہے
—
🧾 واقعے کی تفصیلات کا جدول
عنصر تفصیل
مقام چک مرید، تحصیل حاصل پور
نوعیت گھریلو تنازع، فائرنگ
متاثرہ ایک خاتون (بہن)
حملہ آور سگی بہن
ہتھیار 30 بور پسٹل
حالت زخمی، ہسپتال منتقل
ایکشن ریسکیو نے فرسٹ ایڈ دی، پولیس نے ملزمہ گرفتار کی
—
💬 علاقہ مکینوں کا ردعمل
چک مرید کے مکین اس واقعے پر ششدر ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ:
دونوں بہنیں کئی دنوں سے لڑ جھگڑ رہی تھیں
گھر میں اکثر شور شرابا سنا جاتا تھا
کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ معاملہ فائرنگ تک پہنچ جائے گا
—
⚖️ قانونی نکتہ نظر سے تجزیہ
پاکستانی قانون کے مطابق:
کسی کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے پر دفعہ 324 (اقدام قتل) کا اطلاق ہوتا ہے
اگر متاثرہ کی حالت نازک ہو یا گولی اہم اعضاء میں لگی ہو تو کیس مزید سنگین ہو جاتا ہے
سگی بہن ہونے کی حیثیت سے جرم ذاتی دشمنی کے زمرے میں تو نہیں آتا مگر جذباتی دباؤ کی دلیل دی جا سکتی ہے
لیکن، عدالت حقائق اور شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔
—
🔐 گھریلو تنازعات: ایک سنگین مسئلہ
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے معاشرے میں گھریلو تنازعات کس قدر سنگین شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ نفسیاتی دباؤ، کمیونیکیشن کا فقدان، اور اسلحے تک آسان رسائی اس طرح کے واقعات کو جنم دیتی ہے۔
🧠 ماہرین کا مشورہ
ہر گھر میں اسلحے کو محفوظ طریقے سے رکھا جائے
خاندانی تنازعات میں بزرگ یا فریق ثالث کو شامل کیا جائے
خواتین کے لیے کاؤنسلنگ سیشنز اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے کی ورکشاپس کروائی جائیں
—
📣 پولیس کا عوام سے پیغام
حاصل پور پولیس نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ:
> “اگر کسی بھی گھر میں ایسے حالات موجود ہوں، جہاں جھگڑے معمول بن چکے ہوں یا کسی شخص کے رویے میں شدت نظر آ رہی ہو، تو فوری طور پر پولیس یا متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں تاکہ بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔”
—
🔚 اختتامیہ: غصہ لمحوں میں تباہی بن جاتا ہے
یہ واقعہ محض ایک خبر نہیں بلکہ سبق ہے کہ غصہ، نفرت، اور جلد بازی جیسے جذبات انسان سے انسانیت چھین لیتے ہیں۔ جب خونی رشتے بھی دشمنی میں بدل جائیں تو معاشرے کا توازن خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
خدا کرے کہ زخمی خاتون جلد صحت یاب ہو، اور ایسی داستانیں دوبارہ ہمارے معاشرے میں جنم نہ لیں۔















Leave a Reply