سیاسی رشوت یا عوامی مفاد؟ علی امین گنڈاپور کی لاہور بار کو 5 کروڑ کی امداد پر نااہلی کی درخواست دائر

5 / 100 SEO Score

پشاور (قوم نیوز) – خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے لاہور بار ایسوسی ایشن کو پانچ کروڑ روپے فنڈ دینے کے فیصلے نے قانونی اور سیاسی محاذ پر ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے وکیل ارسلان آفریدی ایڈووکیٹ نے اس اقدام کو آئین اور قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ان کی نااہلی کے لیے آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔

 

 

 

فنڈ جاری کرنے کا پس منظر

 

درخواست کے مطابق علی امین گنڈاپور نے خیبرپختونخوا کابینہ کی منظوری سے پنجاب کے نجی ادارے، لاہور بار ایسوسی ایشن کو 5 کروڑ روپے کا فنڈ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس اقدام پر قانونی برادری سمیت سیاسی حلقوں میں شدید تنقید کی جا رہی ہے، جسے “سیاسی رشوت” اور عوامی وسائل کے غلط استعمال سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

 

 

 

درخواست میں مؤقف کیا ہے؟

 

درخواست گزار نے اپنے مؤقف میں درج ذیل نکات اٹھائے ہیں:

 

خیبرپختونخوا کے عوام پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ہیں، ایسے میں دوسرے صوبے کے نجی ادارے کو مالی امداد دینا مالی خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔

 

آئین اور این ایف سی ایوارڈ کی روشنی میں صوبائی فنڈز صرف اپنے صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

 

لاہور بار کو دیا گیا فنڈ کسی ہنگامی صورت حال یا قدرتی آفت کے تحت بھی نہیں دیا گیا، اس لیے یہ اقدام غیر آئینی ہے۔

 

یہ امداد سیاسی مفادات کے حصول کے لیے دی گئی جسے “سیاسی رشوت” قرار دیا گیا ہے۔

 

سپریم کورٹ کے ماضی کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ عوامی فنڈز کے غلط استعمال سے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچتا ہے اور منتخب نمائندے نااہل ہو سکتے ہیں۔

 

 

 

 

درخواست میں کیا مطالبہ کیا گیا ہے؟

 

مطالبہ وضاحت

 

نااہلی علی امین گنڈاپور کو فوری طور پر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دیا جائے

ڈی نوٹیفکیشن ان کی صوبائی اسمبلی کی رکنیت ختم کر کے ڈی نوٹیفائی کیا جائے

قانونی کارروائی عوامی وسائل کے غلط استعمال پر سخت قانونی کارروائی کی جائے

 

 

 

 

سیاسی و قانونی ماہرین کی آرا

 

قانونی ماہرین کے مطابق، اگر فنڈ کی فراہمی واقعی آئینی دائرہ اختیار سے باہر ثابت ہو گئی تو:

 

گنڈاپور کی نااہلی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں

 

الیکشن کمیشن کو فریقین کی سماعت کے بعد ریفرنس عدالت عظمیٰ کو بھی بھیجنے کا اختیار حاصل ہے

 

اس کیس کی سماعت نہ صرف علی امین بلکہ دیگر وزرائے اعلیٰ کے لیے بھی ایک نظیر بن سکتی ہے

 

 

 

 

تحریک انصاف کا ردعمل

 

تحریک انصاف کے ترجمان نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اس اقدام کو سیاسی انتقام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا:

 

> “وزیر اعلیٰ نے وکلا برادری کی فلاح کے لیے قدم اٹھایا ہے، اسے سیاسی رنگ دینا غیر مناسب ہے۔”

 

 

 

 

 

سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

 

خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر عوام اور وکلا برادری کے درمیان شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ کچھ اسے شفافیت کے خلاف اقدام قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے قانونی طور پر ناقابل قبول اقدام سمجھ رہے ہیں۔

 

 

 

آگے کیا ہوگا؟

 

الیکشن کمیشن آئندہ چند روز میں درخواست کی ابتدائی جانچ مکمل کرے گا

 

اگر درخواست قابلِ سماعت قرار دی گئی، تو نوٹس جاری کیے جائیں گے

 

امکان ہے کہ یہ معاملہ عدالت عظمیٰ تک بھی پہنچے

 

 

 

 

یہ معاملہ علی امین گنڈاپور کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں خیبرپختونخوا کی سیاست میں نیا موڑ لا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ خبر عوامی مفاد میں فراہم کی گئی ہے۔ اس میں شامل معلومات دستیاب ذرائع، رپورٹس یا عوامی بیانات پر مبنی ہیں۔ ادارہ اس خبر میں موجود کسی بھی دعوے یا رائے کی تصدیق یا تردید کا ذمہ دار نہیں ہے۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ حکام یا مستند ذرائع سے رجوع کریں۔