آئی فون 17 نے صارفین کی پریشانی بڑھا دی: قیمت، فیچرز اور بیٹری مسائل پر شدید ردعمل

7 / 100 SEO Score

ٹیکنالوجی ڈیسک (قوم نیوز)

ایپل کمپنی کی جانب سے حال ہی میں لانچ کیے گئے نئے آئی فون 17 نے جہاں ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچایا، وہیں صارفین کی ایک بڑی تعداد مایوسی اور پریشانی کا شکار بھی نظر آئی۔ اگرچہ ایپل نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ماڈل اب تک کا سب سے جدید اور محفوظ اسمارٹ فون ہوگا، لیکن لانچ کے بعد سے اب تک متعدد شکایات اور تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 

 

 

آئی فون 17 کی لانچنگ: پروموشن زیادہ، تسلی کم؟

 

ایپل نے آئی فون 17 کی لانچنگ کو ایک بڑا ایونٹ بنایا۔ دنیا بھر میں اسمارٹ فون صارفین کی نظریں اس ماڈل پر مرکوز تھیں۔ کمپنی نے دعویٰ کیا کہ آئی فون 17 میں جدید A19 بایونک چپ، 48 میگا پکسل کیمرہ، اور 1TB اسٹوریج جیسے فیچرز اسے دیگر فونز سے منفرد بناتے ہیں۔ تاہم، جب یہ فون مارکیٹ میں آیا تو بہت سے صارفین نے درج ذیل مسائل کی نشاندہی کی:

 

 

 

بڑی قیمت، چھوٹی تسلی

 

ماڈل قیمت (پاکستانی روپوں میں) مارکیٹ ردعمل

 

iPhone 17 5,15,000 روپے سے شروع قیمت پر شدید تنقید

iPhone 17 Pro 6,75,000 روپے تک مہنگا اور اوورریٹڈ

iPhone 17 Pro Max 7,85,000 روپے سے زائد فیچرز کے مقابلے میں مہنگا

 

 

صارفین کا کہنا ہے کہ اس قدر زیادہ قیمت کے باوجود فون میں کوئی “واہ” والا نیا فیچر نظر نہیں آیا۔ بہت سے لوگ شکایت کر رہے ہیں کہ کمپنی ہر سال ماڈل تو لانچ کرتی ہے لیکن بنیادی مسئلے ویسے ہی رہتے ہیں۔

 

 

 

بیٹری کا مسئلہ: اب بھی وہی پرانی کہانی

 

ایک بڑا مسئلہ جس نے صارفین کو مایوس کیا، وہ تھا بیٹری کا جلدی ختم ہونا۔ کئی افراد نے آن لائن فورمز پر شکایات درج کروائیں کہ:

 

فون زیادہ دیر چارج لیتا ہے

 

نارمل استعمال پر بھی بیٹری تیزی سے کم ہو جاتی ہے

 

ہیٹ اپ ہونے کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے

 

 

ایک صارف نے ٹوئٹر پر لکھا:

 

> “آئی فون 17 لیا ہے مگر بیٹری لائف ایسی ہے جیسے پرانے ماڈل کا ہو۔ اتنی بڑی رقم دے کر بھی یہ مسئلہ ناقابل قبول ہے۔”

 

 

 

 

 

کیمرہ فیچرز: صرف دعوے یا حقیقت؟

 

ایپل نے کیمرہ کو بڑا اپ گریڈ قرار دیا، لیکن فوٹوگرافی کے شوقین افراد کچھ زیادہ متاثر نظر نہیں آئے۔ شکایات میں شامل تھے:

 

نائٹ موڈ کی کوالٹی توقع سے کم

 

زوم کرتے وقت پکسل بریکنگ

 

سیلفی کیمرہ کی ڈیٹیلنگ متاثر کن نہیں

 

 

 

 

USB-C پورٹ: فائدہ یا جھنجھٹ؟

 

ایپل نے آخرکار اپنے پرانے لائٹننگ پورٹ کو چھوڑ کر USB-C پورٹ متعارف کروا دیا، جو بظاہر خوش آئند تبدیلی تھی، لیکن صارفین کا کہنا ہے کہ:

 

پرانے چارجر اور کیبلز بے کار ہو گئے

 

نیا چارجر مہنگا اور دستیاب نہیں

 

مارکیٹ میں معیاری USB-C چارجر کی کمی

 

 

 

 

صارفین کا ردعمل: مایوسی اور واپسی کی بڑھتی شرح

 

کئی ممالک میں خریدار فون واپس کر رہے ہیں یا سستے ماڈل خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چل رہا ہے:

 

#iPhone17Disappointment

#iPhone17Return

 

 

 

ایپل کا ردعمل: خاموشی یا حکمتِ عملی؟

 

ابھی تک ایپل کی جانب سے ان شکایات پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنی جلد ہی سافٹ ویئر اپڈیٹ کے ذریعے کچھ مسائل حل کرنے کی کوشش کرے گی۔

 

 

 

ماہرین کا تجزیہ: برانڈ ویلیو یا صارف کی قدر؟

 

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپل کی کامیابی کا راز اس کی برانڈ ویلیو ہے، لیکن اگر صارفین کو ہر سال صرف نام پر نیا ماڈل خریدنا پڑے، تو یہ حکمت عملی دیرپا نہیں ہو سکتی۔ کچھ ماہرین نے نشاندہی کی:

 

ایپل صرف ڈیزائن میں معمولی تبدیلی کر کے نیا ماڈل بیچتا ہے

 

اصل مسئلے جیسے بیٹری، ہیٹنگ، کیمرہ فیچرز کو نظر انداز کیا جاتا ہے

 

قیمت بڑھتی جا رہی ہے، مگر معیار وہی ہے

 

 

 

 

کیا ایپل سستے ماڈلز کی طرف واپس آئے گا؟

 

صارفین کے شدید ردعمل کو دیکھتے ہوئے یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایپل اگلے سال “iPhone SE” یا کوئی نیا کم قیمت ماڈل متعارف کرا سکتا ہے تاکہ اپنی مقبولیت کو برقرار رکھ سکے۔

 

 

 

نتیجہ: آئی فون 17 – نام بڑا، کام چھوٹا؟

 

آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ آئی فون 17 کی لانچنگ نے ایپل کے فینز کو وہ خوشی نہیں دی جس کی وہ توقع رکھتے تھے۔ نئی ٹیکنالوجی اور خوبصورت ڈیزائن کے باوجود قیمت، بیٹری، اور کیمرہ مسائل نے اس فون کو متنازع بنا دیا ہے۔

 

اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا ایپل صارفین کی شکایات کو سنجیدگی سے لیتا ہے یا اپنی پرانی حکمتِ عملی پر ہی قائم رہتا ہے۔

نوٹ: یہ خبر عوامی مفاد میں فراہم کی گئی ہے۔ اس میں شامل معلومات دستیاب ذرائع، رپورٹس یا عوامی بیانات پر مبنی ہیں۔ ادارہ اس خبر میں موجود کسی بھی دعوے یا رائے کی تصدیق یا تردید کا ذمہ دار نہیں ہے۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ حکام یا مستند ذرائع سے رجوع کریں۔