ہرات میں 64 ملین ڈالر کا 200 میگاواٹ ونڈ پاور منصوبہ – افغانستان میں توانائی کے نئے دور کا آغاز

Oplus_16908288
7 / 100 SEO Score

افغانستان میں توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا ہے، جہاں ہرات میں 64 ملین ڈالر کی لاگت سے 200 میگاواٹ کے ونڈ پاور منصوبے کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نہ صرف بجلی کی قلت پر قابو پانا ہے بلکہ افغانستان کو توانائی میں خودکفیل بنانے کے لیے متبادل ذرائع کا استعمال بھی فروغ دینا ہے۔

 

یہ منصوبہ افغانستان الیکٹرسٹی کمپنی (DABS) کی نگرانی میں مکمل کیا جا رہا ہے اور اسے افغانستان کی توانائی کی تاریخ کا سب سے بڑا ونڈ پاور منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔

 

 

 

پہلے مرحلے میں 43.2 میگاواٹ بجلی کی پیداوار شروع

 

منصوبے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے DABS کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالباری عمر نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 43.2 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت والے یونٹس فعال کر دیے گئے ہیں، جو فوری طور پر صنعتی شعبے کی ضروریات پوری کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔

 

تقریب میں افغانستان کے نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملا برادر نے کہا:

 

> “یہ منصوبہ افغانستان کی معیشت کو ایک نئی سمت دے گا اور غیر ملکی توانائی پر انحصار کم کرنے میں مدد کرے گا۔”

 

 

 

 

 

پروجیکٹ کی تفصیلات

 

پہلو تفصیل

 

منصوبے کا نام ہرات ونڈ پاور پروجیکٹ

مقام ہرات، مغربی افغانستان

کل لاگت 64 ملین امریکی ڈالر

مجموعی پیداواری صلاحیت 200 میگاواٹ

پہلے مرحلے میں فعال یونٹس 43.2 میگاواٹ

نگران ادارہ افغانستان الیکٹرسٹی کمپنی (DABS)

افتتاحی تاریخ مئی 2025

معاون منصوبہ 5 میگاواٹ شمسی توانائی کا پراجیکٹ

 

 

 

 

صنعتکاروں کے لیے ریلیف

 

ہرات کا شمار افغانستان کے بڑے صنعتی مراکز میں ہوتا ہے، جہاں درجنوں فیکٹریاں اور کارخانے موجود ہیں۔ ان صنعتی اداروں کو گزشتہ کئی برسوں سے بجلی کی کمی کا سامنا تھا، جو پیداوار میں کمی اور روزگار کے مواقع محدود ہونے کا باعث بن رہا تھا۔

 

DABS کے مطابق اس منصوبے کی بدولت ہرات کے صنعتی شعبے کو مستقل، قابل اعتماد اور سستی بجلی فراہم کی جائے گی جس سے:

 

پیداوار میں اضافہ ہوگا

 

روزگار کے مواقع میں وسعت آئے گی

 

کاروباری لاگت میں کمی واقع ہوگی

 

 

 

 

شمسی توانائی کا پراجیکٹ بھی فعال

 

ونڈ پاور منصوبے کے ساتھ ساتھ، DABS نے 5 میگاواٹ کے شمسی توانائی منصوبے کا بھی افتتاح کیا ہے۔ اس منصوبے سے دور دراز علاقوں کو بجلی کی فراہمی میں مدد ملے گی، خاص طور پر وہ علاقے جہاں روایتی پاور گرڈز نہیں پہنچ سکتے۔

 

 

 

متبادل توانائی کی طرف بڑھتا افغانستان

 

یہ دونوں منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ افغانستان روایتی ذرائع جیسے ڈیزل اور کوئلے پر انحصار کم کر کے جدید، صاف، اور ماحول دوست توانائی کی جانب گامزن ہو رہا ہے۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ:

 

افغانستان میں سالانہ 300 دن سورج نکلتا ہے

 

متعدد علاقوں میں ہوا کی رفتار 6 میٹر فی سیکنڈ سے زائد ہے

 

اگر قدرتی وسائل کا صحیح استعمال کیا جائے تو افغانستان توانائی برآمد کرنے والا ملک بن سکتا ہے

 

 

 

 

عالمی توجہ اور سرمایہ کاری کے امکانات

 

افغانستان میں حالیہ اقدامات کو عالمی سرمایہ کاروں نے بھی سراہا ہے۔ اگرچہ سکیورٹی چیلنجز بدستور موجود ہیں، لیکن DABS جیسے اداروں کی کارکردگی اور شفافیت نے غیر ملکی کمپنیوں کی توجہ حاصل کی ہے۔

 

ترک، چینی، اور وسطی ایشیائی کمپنیاں افغان توانائی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے امکانات پر غور کر رہی ہیں۔

 

 

 

چیلنجز بھی موجود ہیں

 

اگرچہ یہ منصوبے افغانستان کے لیے حوصلہ افزا ہیں، مگر ان کے راستے میں کچھ مشکلات بھی درپیش ہیں:

 

سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال

 

فنڈنگ کے تسلسل کا مسئلہ

 

تکنیکی ماہرین کی کمی

 

مقامی افراد کی تربیت کی ضرورت

 

 

DABS کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کر رہے ہیں، اور جلد ہی ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسی نوعیت کے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

 

 

 

نتیجہ: ایک روشن مستقبل کی امید

 

ہرات ونڈ پاور اور شمسی توانائی منصوبے صرف بجلی فراہم کرنے والے منصوبے نہیں، بلکہ یہ افغانستان کے مستقبل کے لیے ایک مثبت علامت ہیں۔ ایسے اقدامات ملک کو توانائی کے میدان میں خودمختار بنانے کے ساتھ ساتھ معاشی خودکفالت کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں۔

 

اگر حکومت، نجی شعبہ، اور عوام مل کر اس وژن کو آگے بڑھائیں، تو وہ دن دور نہیں جب افغانستان بجلی کے اندھیرے سے نکل کر ترقی کی روشنی میں داخل ہو جائے گا

نوٹ: یہ خبر عوامی مفاد میں فراہم کی گئی ہے۔ اس میں شامل معلومات دستیاب ذرائع، رپورٹس یا عوامی بیانات پر مبنی ہیں۔ ادارہ اس خبر میں موجود کسی بھی دعوے یا رائے کی تصدیق یا تردید کا ذمہ دار نہیں ہے۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ حکام یا مستند ذرائع سے رجوع کریں۔