غزہ جنگ بند کرو، ورنہ حمایت ختم: ٹرمپ کا اسرائیل کو دوٹوک پیغام

Oplus_16908288
4 / 100 SEO Score

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر غزہ پر جاری حملے فوری طور پر بند نہ کیے گئے تو امریکہ کی حمایت ختم کی جا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ٹرمپ نے اسرائیلی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ جنگ کے تسلسل سے نہ صرف خطے میں تباہی بڑھے گی بلکہ امریکہ کے لیے اسرائیل کی سفارتی حمایت برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

 

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ میں انسانی بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے اور بین الاقوامی برادری اسرائیل سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں ایک نئی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں واشنگٹن اب تل ابیب کو کھل کر رعایتیں دینے کو تیار نہیں۔

 

ٹرمپ کے اس موقف کو دنیا بھر میں مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے، کچھ حلقے اسے انسانیت کی حمایت میں مثبت قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض اسے سیاسی چال بھی سمجھتے ہیں۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر غزہ پر جاری حملے فوری طور پر بند نہ کیے گئے تو امریکہ کی حمایت ختم کی جا سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ٹرمپ نے اسرائیلی قیادت کو خبردار کیا ہے کہ جنگ کے تسلسل سے نہ صرف خطے میں تباہی بڑھے گی بلکہ امریکہ کے لیے اسرائیل کی سفارتی حمایت برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ میں انسانی بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے اور بین الاقوامی برادری اسرائیل سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں ایک نئی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں واشنگٹن اب تل ابیب کو کھل کر رعایتیں دینے کو تیار نہیں۔

ٹرمپ کے اس موقف کو دنیا بھر میں مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے، کچھ حلقے اسے انسانیت کی حمایت میں مثبت قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض اسے سیاسی چال بھی سمجھتے ہیں۔

نوٹ: یہ خبر عوامی مفاد میں فراہم کی گئی ہے۔ اس میں شامل معلومات دستیاب ذرائع، رپورٹس یا عوامی بیانات پر مبنی ہیں۔ ادارہ اس خبر میں موجود کسی بھی دعوے یا رائے کی تصدیق یا تردید کا ذمہ دار نہیں ہے۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ حکام یا مستند ذرائع سے رجوع کریں۔