آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے قرض پروگرام کی شرائط مزید سخت کر دیں، بھارت سے کشیدگی باعث تشویش

Oplus_16908288
4 / 100 SEO Score

اسلام آباد (قوم نیوز، ) — عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو دیے جانے والے قرض پروگرام کی آئندہ اقساط سے قبل نئی اور سخت شرائط عائد کر دی ہیں، جنہیں پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے 11 نئی شرائط پیش کی ہیں جن میں سب سے اہم بجٹ منظوری، زرعی آمدنی پر ٹیکس، بجلی کے بلوں میں اضافہ، اور پرانی گاڑیوں کی درآمد پر پابندی ختم کرنا شامل ہے۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو نہ صرف اقتصادی اصلاحات پر مکمل عملدرآمد کرنا ہوگا بلکہ علاقائی تناؤ کو کم کرنے کی کوششیں بھی کرنا ہوں گی تاکہ پروگرام کی ساکھ قائم رہ سکے۔

 

نمایاں شرائط میں شامل ہیں:

 

وفاقی بجٹ 2025-26 کی پارلیمانی منظوری

 

زرعی آمدنی پر انکم ٹیکس

 

بجلی کے بلوں میں قرض سرچارج کا اضافہ

 

تین سال سے پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت

 

خصوصی ٹیکنالوجی زونز کی مراعات کا خاتمہ

 

کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبوں کی حوصلہ شکنی اور الیکٹرک گاڑیوں کی ترویج

 

 

آئی ایم ایف نے پاکستان کے مالیاتی نظام میں شفافیت، اخراجات میں کفایت شعاری اور اقتصادی نظم و ضبط کو پروگرام کی کامیابی کیلئے لازمی قرار دیا ہے۔

 

ادارے نے بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قرض پروگرام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال قابو میں نہ آئی تو اس سے مالیاتی پالیسیوں اور بیرونی فنانسنگ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ خبر عوامی مفاد میں فراہم کی گئی ہے۔ اس میں شامل معلومات دستیاب ذرائع، رپورٹس یا عوامی بیانات پر مبنی ہیں۔ ادارہ اس خبر میں موجود کسی بھی دعوے یا رائے کی تصدیق یا تردید کا ذمہ دار نہیں ہے۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ حکام یا مستند ذرائع سے رجوع کریں۔