موہنجوڈارو کا راز: ہزاروں سال پرانی تہذیب کا پراسرار خاتمہ

Oplus_16908288
8 / 100 SEO Score

 

پاکستان کی سرزمین پر واقع موہنجوڈارو صرف ایک تاریخی مقام نہیں، بلکہ دنیا کی سب سے قدیم تہذیبوں میں سے ایک کا زندہ ثبوت ہے۔ تقریباً 4500 سال قبل وجود میں آنے والی یہ تہذیب آج بھی ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور تاریخ دانوں کے لیے حیرت اور تجسس کا باعث بنی ہوئی ہے۔

 

سوال یہ ہے: ایسی ترقی یافتہ تہذیب اچانک کیسے ختم ہو گئی؟

اس سوال کا جواب آج تک ایک معمہ ہے، اور اس پر کئی نظریات موجود ہیں۔

 

 

 

موہنجوڈارو کہاں واقع ہے؟

 

موہنجوڈارو صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ اس کا مطلب ہے “مُردوں کا ٹیلہ” — جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ مقام کبھی عظیم انسانی آبادی کا مرکز تھا، جو کسی نامعلوم وجہ سے صفحۂ ہستی سے مٹ گئی۔

 

 

 

ہڑپہ تہذیب کا روشن چراغ

 

موہنجوڈارو، وادی سندھ کی تہذیب (Indus Valley Civilization) کا ایک بڑا شہر تھا۔ یہ تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے، جس میں مصر، میسوپوٹیمیا اور چین کی تہذیبیں شامل ہیں۔

 

یہاں کی شاندار منصوبہ بندی، پانی کی نکاسی کا نظام، پختہ سڑکیں، بیت الخلاء کی سہولیات اور منظم مکانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں کے لوگ انتہائی ترقی یافتہ اور سائنسی سوچ کے حامل تھے۔

 

 

 

جدید سہولیات کا ثبوت

 

1. منصوبہ بندی: موہنجوڈارو کے مکانات اینٹوں سے بنے ہوئے تھے اور سڑکیں سیدھی اور چوڑی تھیں۔

 

 

2. نکاسی آب: ہر گھر کے ساتھ نکاسی کا الگ نظام موجود تھا، جو اس وقت کی تہذیبوں میں منفرد تصور کیا جاتا ہے۔

 

 

3. عوامی غسل خانے: یہاں “عظیم غسل خانہ” (Great Bath) بھی دریافت ہوا، جو کسی عوامی یا مذہبی مقصد کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

 

 

 

 

 

تہذیب کا اچانک خاتمہ — مختلف نظریات

 

1. قدرتی آفات

 

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ شدید زلزلے یا دریائے سندھ کا راستہ بدلنے کے باعث یہاں زندگی ختم ہو گئی۔ زلزلوں سے زمین کی سطح میں تبدیلیاں آئیں اور پانی کی قلت پیدا ہوئی، جس نے معیشت اور زراعت کو تباہ کر دیا۔

 

2. ماحولیاتی تبدیلی

 

تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ اس دور میں شدید قحط، بارشوں کی کمی اور زمین کی زرخیزی میں کمی آئی تھی، جس کی وجہ سے لوگ یہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔

 

3. بیرونی حملہ

 

ایک اور نظریہ یہ بھی ہے کہ شمالی حملہ آور (آریا قوم) نے اس شہر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں یہاں کے مکین مارے گئے یا نقل مکانی کر گئے۔ تاہم اس نظریے پر مکمل اتفاق نہیں۔

 

4. وبائی امراض

 

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ کسی مہلک وبا نے موہنجوڈارو کو لپیٹ میں لیا، اور چونکہ اس دور میں جدید طبی سہولیات نہیں تھیں، اس لیے شہر کی بڑی آبادی لقمہ اجل بن گئی۔

 

 

 

آثار اور دریافتیں

 

موہنجوڈارو سے جو اشیاء دریافت ہوئیں ان میں شامل ہیں:

 

مہر (Seals) جن پر جانوروں اور علامتی تحریروں کے نقوش تھے

 

مٹی کے برتن

 

دھاتوں سے بنی اشیاء

 

زیورات

 

مجسمے، جن میں مشہور “پریسٹ کنگ” اور “ڈانسر گرل” شامل ہیں

 

 

یہ اشیاء اس تہذیب کی فن و ثقافت، معیشت اور مذہبی رجحانات کی عکاسی کرتی ہیں۔

 

 

 

تحریر کا راز — ایک ان پڑھ تہذیب؟

 

سب سے بڑی حیرت کی بات یہ ہے کہ موہنجوڈارو کے لوگ تحریر لکھنا جانتے تھے، مگر آج تک ان کی زبان یا رسم الخط کو پڑھا نہیں جا سکا۔ ان کی مہر پر تحریریں موجود ہیں، مگر ان کا مطلب آج بھی معلوم نہیں۔

 

اگر یہ زبان پڑھ لی جائے تو شاید تہذیب کے خاتمے کا معمہ بھی حل ہو جائے۔

 

 

 

موہنجوڈارو کی اہمیت آج کے لیے

 

پاکستان کی ثقافتی اور تاریخی پہچان

 

اقوامِ متحدہ کے ادارہ یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹیج سائٹ

 

سیاحت، تعلیم اور تحقیق کے لیے اہم مقام

 

 

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ مقام زوال پذیر ہو رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی، بارشوں، اور حکومتی غفلت نے اس نایاب ورثے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

 

 

 

حکومت اور عوام کی ذمہ داری

 

تاریخ ایک آئینہ ہوتی ہے، جو قوموں کو ماضی سے سیکھنے کا موقع دیتی ہے۔ موہنجوڈارو ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ترقی، تہذیب اور ٹیکنالوجی بھی ہمیشہ باقی نہیں رہتی اگر فطرت اور نظام کے ساتھ توازن نہ رکھا جائے۔

 

 

 

نتیجہ

 

موہنجوڈارو آج بھی اپنی خاموشی میں بہت کچھ کہتا ہے۔ ہزاروں سال بعد بھی اس کے ٹوٹے پھوٹے در و دیوار، اینٹیں، سڑکیں اور نہریں ایک ایسے ماضی کی گواہی دے رہی ہیں، جو کبھی انسان کی عظمت کا استعارہ تھا — اور آج ایک کھنڈر بن چکا ہے۔

 

یہ مقام صرف ایک آثار قدیمہ کی جگہ نہیں، بلکہ انسانی عظمت، ترقی اور زوال کی علامت ہے۔

 

نوٹ: یہ خبر عوامی مفاد میں فراہم کی گئی ہے۔ اس میں شامل معلومات دستیاب ذرائع، رپورٹس یا عوامی بیانات پر مبنی ہیں۔ ادارہ اس خبر میں موجود کسی بھی دعوے یا رائے کی تصدیق یا تردید کا ذمہ دار نہیں ہے۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ حکام یا مستند ذرائع سے رجوع کریں۔