ذرائع: نیویارک ٹائمز، الجزیرہ، الجزیرہ انگلش + عالمی سفارتی رپورٹس
غزہ میں جاری انسانی بحران اور طویل جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ امن روڈ میپ کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے تین مراحل پر مشتمل ایک مسودہ تیار کیا گیا ہے، جس پر عالمی ثالثی کی نگرانی میں پیش رفت جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق اس امن منصوبے میں مصر، قطر، امریکہ اور اقوام متحدہ کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، اور جنگ بندی کی کوششوں کو حتمی شکل دینے کے لیے پسِ پردہ مذاکرات اپنے نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
—
تین مراحل پر مشتمل ممکنہ جنگ بندی معاہدہ
🔹 پہلا مرحلہ: انسانی بنیادوں پر سیزفائر
مکمل فائر بندی کم از کم 6 ہفتوں کے لیے نافذ کی جائے گی۔
اس دوران غزہ کے جنوبی اور شمالی علاقوں میں امدادی سامان کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
قیدیوں اور یرغمالیوں کا ابتدائی تبادلہ ہوگا، جس میں خواتین، بزرگ، اور زخمی افراد کو ترجیح دی جائے گی۔
اسرائیلی افواج شمالی غزہ کے مخصوص علاقوں سے پیچھے ہٹیں گی۔
🔹 دوسرا مرحلہ: قیدیوں کا مکمل تبادلہ اور افواج کی واپسی
تمام فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی کوشش کی جائے گی۔
اسرائیلی فوج غزہ کی بیشتر حدود سے انخلا کرے گی، اور سویلین عبور کے لیے مخصوص راہداریوں کو کھولا جائے گا۔
اقوام متحدہ کی نگرانی میں تعمیر نو اور طبی امداد کے پروجیکٹ شروع کیے جائیں گے۔
🔹 تیسرا مرحلہ: مستقل جنگ بندی اور سیاسی مذاکرات
فریقین ایک مستقل جنگ بندی پر رضامند ہوں گے۔
عالمی برادری کی زیر نگرانی سیاسی مذاکرات شروع کیے جائیں گے، جن میں فلسطینی ریاست کے قیام، سرحدی معاملات، اور مستقبل کے امن معاہدے شامل ہوں گے۔
علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی مشن کی تعیناتی بھی متوقع ہے۔
—
اسرائیلی تحفظات اور حماس کا مؤقف
نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیلی کابینہ میں بعض سخت گیر وزرا اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں اور حماس کی مکمل غیر موجودگی تک سیزفائر نہ کرنے کے حامی ہیں۔
دوسری جانب حماس کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ وہ مکمل جنگ بندی، فوجی انخلا اور قیدیوں کی رہائی کے بغیر کسی معاہدے کو قبول نہیں کرے گی۔
—
امریکی کردار اور عالمی دباؤ
صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اس امن منصوبے کی بھرپور حمایت کر رہی ہے اور اسرائیل پر سفارتی دباؤ بڑھا رہی ہے۔ قطر اور مصر کے ذریعے حماس سے بھی مسلسل بات چیت جاری ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی کہا ہے کہ:
> “غزہ کے مظلوم عوام کو فوری ریلیف اور ایک دیرپا امن کی ضرورت ہے۔”
—
عالمی ردعمل
یورپی یونین نے بھی اس منصوبے کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انسانی حقوق کی بحالی کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
ترکی، سعودی عرب، اور اردن نے بھی جنگ بندی کی کوششوں کو سراہا ہے اور جلد از جلد قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ کیا ہے۔
—
نتیجہ: کیا یہ جنگ بندی کامیاب ہوگی؟
اگرچہ اس امن منصوبے کی تفصیلات حتمی نہیں ہیں، تاہم بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین ابتدائی اعتماد سازی کے اقدامات پر عمل کریں، تو 2025 کی دوسری ششماہی میں ایک تاریخی جنگ بندی ممکن ہے۔















Leave a Reply