پاکستان اور یو اے ای کا بڑا سفارتی قدم: ویزا چھوٹ، مصنوعی ذہانت اور سرمایہ کاری پر اہم معاہدے

Oplus_16908288
6 / 100 SEO Score

ابو ظبی میں پاکستان-متحدہ عرب امارات مشترکہ وزارتی کمیشن کے 12ویں اجلاس میں اہم پیش رفت، ویزا پالیسی نرمی اور ڈیجیٹل معیشت پر اتفاق۔

 

 

 

🗞️ مکمل آرٹیکل:

 

📍 تعارف:

 

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور ہو گیا ہے، جہاں 24 جون 2025 کو ابو ظبی میں مشترکہ وزارتی کمیشن (JMC) کا بارہواں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی اور مستقبل کے تعاون کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔

 

 

 

🤝 اجلاس کی قیادت:

 

پاکستان کی نمائندگی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کی۔

 

متحدہ عرب امارات کی نمائندگی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے کی۔

 

 

اجلاس دوستانہ ماحول، باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کے جذبے کے تحت منعقد ہوا۔ دونوں ممالک نے عالمی اور علاقائی امور پر کھل کر تبادلہ خیال کیا اور مل کر خطے کے امن و استحکام کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

 

 

 

📋 دستخط شدہ معاہدے:

 

معاہدہ تفصیل

 

✅ ویزا فری معاہدہ دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے داخلے کے ویزا کی باہمی چھوٹ پر دستخط کیے گئے۔

✅ سرمایہ کاری ٹاسک فورس سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مشترکہ ٹاسک فورس قائم کی گئی۔

✅ مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل معیشت جدید ٹیکنالوجی، AI اور ڈیجیٹل فریم ورک کے تحت تعاون بڑھانے پر معاہدہ۔

 

 

 

 

🌐 اہم نکات:

 

اجلاس میں مستقبل کے روابط کو مضبوط کرنے کے لیے شعبہ جاتی ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔

 

دو طرفہ دورے، اقتصادی تعلقات، اور تجارتی شراکت داری کو مزید بہتر بنانے کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

 

فریقین نے اعلان کیا کہ اگلا (13واں) اجلاس پاکستان میں باہمی رضامندی سے منعقد کیا جائے گا۔

 

 

 

 

📈 دونوں ممالک کا مؤقف:

 

پاکستانی وزیر خارجہ: “یہ اجلاس پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات میں نئے امکانات کے دروازے کھولے گا۔”

 

یو اے ای وزیر خارجہ: “ہم خطے میں امن، ترقی اور ڈیجیٹل انقلاب میں پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھیں گے۔”

 

 

 

 

💬 تجزیہ:

 

یہ اجلاس نہ صرف سیاسی سطح پر تعلقات کی مضبوطی کی علامت ہے بلکہ دونوں ممالک کی مستقبل کی ڈیجیٹل اور اقتصادی حکمت عملیوں کو یکجا کرنے کی کوشش بھی ہے۔ ویزا فری انٹری جیسا قدم لوگوں کے باہمی میل جول کو بڑھائے گا، جبکہ مشترکہ ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے معاہدے نئے مواقع پیدا کریں گے۔

 

نوٹ: یہ خبر عوامی مفاد میں فراہم کی گئی ہے۔ اس میں شامل معلومات دستیاب ذرائع، رپورٹس یا عوامی بیانات پر مبنی ہیں۔ ادارہ اس خبر میں موجود کسی بھی دعوے یا رائے کی تصدیق یا تردید کا ذمہ دار نہیں ہے۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ حکام یا مستند ذرائع سے رجوع کریں۔