ایران نے اسرائیل کی بڑی سازش ناکام بنا دی — تہران میں خفیہ ڈرون فیکٹری پکڑی گئی

Oplus_16908288
6 / 100 SEO Score

ایران کی خفیہ ایجنسیوں نے اسرائیل کے خلاف ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے تہران کے مضافاتی علاقے میں واقع ایک خفیہ فیکٹری کا پتہ چلا لیا ہے، جہاں چھوٹے جاسوس ڈرون اور ٹائم بمز تیار کیے جا رہے تھے۔ ایرانی سیکیورٹی حکام کے مطابق، یہ فیکٹری اندرون ملک اہم تنصیبات اور عوامی مقامات پر دہشت گردی کے لیے استعمال ہونی تھی۔

 

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی نہ صرف سیکیورٹی اداروں کی انتہائی مہارت کی عکاس ہے بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی موساد کس حد تک ایران کے اندرونی نظام کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

 

 

 

🎯 فیکٹری کہاں اور کیسے پکڑی گئی؟

 

ایرانی انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق:

 

فیکٹری تہران کے جنوبی صنعتی علاقے میں ایک بند گودام میں قائم کی گئی تھی۔

 

بظاہر یہ جگہ میٹل ورکشاپ کے طور پر رجسٹرڈ تھی۔

 

شبہ اس وقت ہوا جب سیکیورٹی کیمروں نے رات کے وقت مشکوک سرگرمیوں کو ریکارڈ کیا۔

 

ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے فیکٹری میں گھس کر چھاپہ مارا گیا۔

 

 

 

 

📦 اندر کیا پایا گیا؟

 

فیکٹری سے برآمد ہونے والے اہم اشیاء درج ذیل ہیں:

 

20 سے زائد منی ڈرون (جن میں کیمرے اور بارودی مواد نصب تھے)

 

15 عدد ٹائم بمز جنہیں کسی بھی وقت متحرک کیا جا سکتا تھا

 

GPS کنٹرول سسٹمز، مواصلاتی آلات، اور ریموٹ ڈیٹونیٹرز

 

اسرائیل سے منسلک کوڈ شدہ ہارڈ ڈرائیوز اور خفیہ نقشے

 

 

 

 

📊 تفصیلی جدول: پکڑی گئی اشیاء

 

آئٹم مقدار استعمال کی نوعیت

 

منی ڈرون 20+ ہدف پر فضائی حملے اور نگرانی

ٹائم بم 15 دھماکہ خیز حملے

GPS سسٹم 8 مقام کی درست نشاندہی اور ہدف بندی

اسرائیلی کوڈ ڈیوائسز 12 مواصلاتی کنٹرول اور ڈیٹا منتقلی

ریموٹ ڈیٹونیٹر 6 دور سے بم دھماکہ کرنے کے آلات

 

 

 

 

🕵️ سازش کے پیچھے کون؟

 

ایرانی وزیر داخلہ کے مطابق:

 

> “فیکٹری کا کنٹرول ایک داخلی گروہ کے ہاتھ میں تھا جو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ رابطے میں تھا۔ ان افراد کو ٹریننگ، فنڈنگ اور ہدایات بیرون ملک سے دی جا رہی تھیں۔”

 

 

 

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے بعد چھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں ایک دوہری شہریت رکھنے والا شخص بھی شامل ہے۔

 

 

 

💣 اہداف کون تھے؟

 

حکام کے مطابق:

 

تہران کی میٹرو اسٹیشنز

 

سپریم کورٹ کی عمارت

 

ایک سرکاری جوہری ریسرچ سنٹر

 

عوامی اجتماعات، خاص طور پر یوم القدس ریلی

 

 

یہ تمام مقامات حملے کے ممکنہ اہداف تھے، اور ان پر ڈرون یا بم حملے کا منصوبہ تھا تاکہ انتشار، خوف اور سیاسی عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔

 

 

 

🌍 عالمی ردعمل

 

روس اور چین نے ایران کو اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔

ترکی نے ایران کی خودمختاری پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں استحکام سب کی ذمہ داری ہے۔

اقوام متحدہ کی نمائندہ برائے مشرق وسطیٰ نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا اور مزید تحقیقات پر زور دیا۔

 

 

 

💬 عوامی ردعمل اور سوشل میڈیا

 

ایرانی عوام کی طرف سے بھرپور حمایت کا اظہار دیکھنے میں آیا۔ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ #IranFoilsMossadPlot ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

بعض صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ:

 

تمام ایسے خفیہ سیلز کو فوری بے نقاب کرے

 

اسرائیل کے خلاف سخت کارروائی کرے

 

اندرونی ایجنٹوں کے لیے قانون سازی کو سخت کرے

 

 

 

 

🔍 ماہرین کا تجزیہ

 

ڈاکٹر علی اکبر (تہران یونیورسٹی)

 

> “یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل ایران کے اندر مکمل طور پر نیٹ ورکس قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کو اب سیکیورٹی پالیسی میں نئی اصلاحات کی ضرورت ہے۔”

 

 

 

جنرل (ر) انور حیدری (عسکری تجزیہ کار – پاکستان)

 

> “یہ ایک نیٹ ورک وار ہے۔ ڈرون اور ٹائم بمز کی تیاری ایران کی داخلی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، جس کا سامنا صرف انٹیلیجنس اداروں کی جدید حکمت عملی سے کیا جا سکتا ہے۔”

 

نوٹ: یہ خبر عوامی مفاد میں فراہم کی گئی ہے۔ اس میں شامل معلومات دستیاب ذرائع، رپورٹس یا عوامی بیانات پر مبنی ہیں۔ ادارہ اس خبر میں موجود کسی بھی دعوے یا رائے کی تصدیق یا تردید کا ذمہ دار نہیں ہے۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ حکام یا مستند ذرائع سے رجوع کریں۔