وفاقی بجٹ 2025-26 کی تیاریاں جاری ہیں اور اسی دوران پنجاب حکومت نے عوام پر مہنگائی کا ایک نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری کر لی ہے۔ ایک حیران کن تجویز کے مطابق، آئندہ بجٹ میں پیٹرول نقد خریدنے والوں کو فی لیٹر 3 روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔ اس اقدام کا دعویٰ ہے کہ اس سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ ملے گا، مگر عوامی حلقے اسے “مہنگائی کو قانونی شکل دینے کی ایک اور سازش” قرار دے رہے ہیں۔
🛢️ عوام پر ایک اور ظلم
ملک پہلے ہی بدترین مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران کا شکار ہے، ایسے میں عام شہریوں کو ایک بنیادی ضرورت — پیٹرول — پر مزید قیمت ادا کرنے پر مجبور کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ دیہی علاقوں میں جہاں بینکنگ نظام اور ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں، وہاں کے عوام اس فیصلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
📉 ڈیجیٹل کا نام، عوام دشمنی کا کام؟
حکومتی موقف ہے کہ یہ اقدام ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، شفافیت بڑھانے اور ملاوٹ و ٹیکس چوری روکنے کے لیے ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ غریب اور دیہی صارفین کو سزائیں دی جا رہی ہیں۔ شہری طبقہ جو پہلے ہی بجلی، گیس اور بنیادی اشیاء کی قیمتوں سے نڈھال ہے، اب انہیں پیٹرول بھی بینک اکاؤنٹ یا کارڈ کے بغیر لینا مہنگا پڑے گا۔
📊 کیا حکومت خود کو عوام کی نمائندہ سمجھتی ہے؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت کے پاس ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی کا انفرا اسٹرکچر ہی نہیں، تو وہ کیونکر عوام پر ڈیجیٹل ادائیگی کی پابندی مسلط کر سکتی ہے؟
ڈیجیٹل ادائیگی کے فروغ کے لیے عوام کو سہولیات، تربیت، اور بنیادی انفرااسٹرکچر دینا حکومت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ سزائیں دینا۔
🔥 عوامی ردعمل اور تنقید
ماہرین معاشیات اور صارفین کا کہنا ہے کہ:
یہ اقدام غریبوں کے خلاف ہے۔
حکومت شہریوں کو ڈیجیٹل سہولیات دیے بغیر پابندیاں لگا رہی ہے۔
پیٹرول پر فی لیٹر 3 روپے اضافی کا مطلب ہے کہ ایک عام موٹر سائیکل سوار کو ماہانہ سیکڑوں روپے اضافی دینا ہوں گے۔
🧾 اگر یہی پیسے عوام پر لگتے؟
اگر حکومت واقعی عوام کی فلاح چاہتی تو وہ یہ وسائل:
دیہی علاقوں میں سستے پیٹرول پمپ قائم کرنے،
موبائل بینکنگ ایجوکیشن مراکز بنانے،
یا پٹرول پر سبسڈی فراہم کرنے پر خرچ کرتی۔
لیکن بدقسمتی سے حکومت نے ایک بار پھر اشرافیہ کی سہولت اور غریب کی قیمت پر پالیسیاں بنانے کی روایت برقرار رکھی ہے۔
📌 نتیجہ
پنجاب حکومت کا یہ نیا فیصلہ عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کرے گا۔ نقد پیٹرول خریدنے والوں پر اضافی بوجھ ڈالنا ایک غیر منصفانہ اقدام ہے جو ملک میں مہنگائی کی لہر کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اگر یہی روش جاری رہی تو عوام کا حکومت پر سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔















Leave a Reply