خیبر پختونخوا میں صحت کارڈ یا ‘پیسوں کا قبرستان’؟ 💸

4 / 100 SEO Score

پشاور – 2016 سے شروع ہونے والے خیبر پختونخوا کے مشہور زمانہ “صحت کارڈ پلس” پروگرام پر اب تک عوام کے خون پسینے کی کمائی سے 100 ارب روپے اڑا دیے گئے ہیں۔ جی ہاں، 100 ارب روپے! مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس اربوں کی سرمایہ کاری نے عوام کی صحت کو بہتر کیا یا بس ایک سیاسی نعرہ بن کر رہ گئی؟

 

🚨 38 لاکھ مریض یا اربوں کا دھوکہ؟

 

حکومتی دعویٰ ہے کہ اب تک 38.9 لاکھ مریضوں کو مفت علاج دیا گیا، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ان میں سے کتنے مریضوں کو واقعی معیاری سہولت ملی اور کتنے صرف فائلوں میں نمبر بنے۔

 

🏥 100 ارب سے 200 ہسپتال بن سکتے تھے!

 

حیران کن طور پر، ایک 100 بستروں پر مشتمل جدید ہسپتال پر صرف 50 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس حساب سے، اگر یہی رقم صحت کارڈ کے بجائے ہسپتالوں کی تعمیر پر لگائی جاتی، تو پورے صوبے میں 200 نئے ہسپتال کھڑے کیے جا سکتے تھے۔

 

⚠️ صحت کارڈ پر قرض کا بوجھ، علاج بند!

 

صوبائی حکومت پر 19 ارب روپے کا قرض واجب الادا ہے۔

 

کئی اسپتالوں میں صحت کارڈ کے تحت علاج بند ہو چکا ہے۔

 

نجی اسپتالوں کی جانب سے جعلی آپریشنز، غیر ضروری علاج اور جعلی بلنگ کی شکایات عام ہو چکی ہیں۔

 

 

🤔 یہ منصوبہ صحت کے لیے تھا یا سیاسی فائدے کے لیے؟

 

غریب عوام کو “مفت علاج” کا لالی پاپ دکھا کر ووٹ بٹورنے کا یہ منصوبہ اب ناقابلِ برداشت مالی بوجھ بن چکا ہے۔

 

صحت کے نظام میں بہتری کی بجائے، صرف وقتی ریلیف دینے کی پالیسی نے مستقل ڈھانچے کو نظر انداز کر دیا۔

 

 

 

 

📌 نتیجہ: وقتی ریلیف، مستقل نقصان

 

صحت کارڈ بظاہر ایک انقلابی قدم لگتا ہے، مگر اندر سے یہ ایک ایسا منصوبہ بن چکا ہے جو نہ صرف صحت کے نظام کو مالی طور پر تباہ کر رہا ہے، بلکہ عوام کو جعلی امید بھی دے رہا ہے۔ اگر یہی رقم اسپتالوں کی تعمیر، ڈاکٹروں کی تربیت، اور مشینری کی بہتری پر لگائی جاتی تو شاید آج خیبر پختونخوا کا ہر ضلع ایک بہترین ہسپتال رکھتا۔

 

نوٹ: یہ خبر عوامی مفاد میں فراہم کی گئی ہے۔ اس میں شامل معلومات دستیاب ذرائع، رپورٹس یا عوامی بیانات پر مبنی ہیں۔ ادارہ اس خبر میں موجود کسی بھی دعوے یا رائے کی تصدیق یا تردید کا ذمہ دار نہیں ہے۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ حکام یا مستند ذرائع سے رجوع کریں۔