بھارت میں درندگی کی انتہا: مدھیہ پردیش میں قبائلی خاتون کی اجتماعی زیادتی اور بہیمانہ قتل — مودی راج میں خواتین غیر محفوظ

7 / 100 SEO Score

بھارت میں درندگی کی انتہا: مدھیہ پردیش میں قبائلی خاتون کی اجتماعی زیادتی اور بہیمانہ قتل — مودی راج میں خواتین غیر محفوظ

 

ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن / نمائندہ مرزا مہران)

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں انسانیت کو شرما دینے والا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ہندوتوا نظریے سے متاثر غنڈوں نے ایک بے بس قبائلی خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس پر ایسا بہیمانہ تشدد کیا کہ روح کانپ اٹھے۔

 

درندگی کی انتہا: خاتون کے جسم کو نوچ ڈالا گیا

 

تفصیلات کے مطابق ملزمان نہ صرف خاتون کی عصمت دری کرنے پر اکتفا نہ کر سکے بلکہ اپنی درندگی کی انتہا کرتے ہوئے خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہیں خاتون کے نجی اعضا میں لوہے کی سلاخیں گھسیڑنے سے بھی گریز نہ ہوا۔ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر اس کی کوکھ نکال دی اور اسے خون میں لت پت چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

خاتون نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ چشم دید گواہوں کے مطابق اس کا جسم بری طرح مسخ ہو چکا تھا اور جسمانی اعضا موقع پر بکھرے پڑے تھے۔

 

بی جے پی حکومت کی بے حسی، انصاف خواب بن گیا

 

یہ سانحہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دور حکومت میں خواتین کے تحفظ اور قانون کی عملداری پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ یہ واقعہ مودی حکومت کی خواتین مخالف پالیسیوں، پولیس کی بے حسی اور عدالتی نظام کی کمزوری کو عیاں کرتا ہے۔

 

ٹیبل: واقعہ کی تفصیل

 

تفصیل معلومات

 

ریاست مدھیہ پردیش، بھارت

متاثرہ خاتون قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والی

جرم کی نوعیت اجتماعی زیادتی، بہیمانہ قتل

ملزمان مبینہ ہندوتوا نظریے سے متاثر

طریقہ واردات جنسی زیادتی، لوہے کی سلاخ سے تشدد

مقام واردات جنگل کے قریب علاقہ

حکومتی ردعمل تاحال کوئی واضح موقف نہیں

عوامی ردعمل شدید غم و غصہ، سوشل میڈیا پر احتجاج

 

 

بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم بڑھتے جا رہے ہیں

 

گزشتہ چند برسوں میں بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کی رپورٹ کے مطابق:

 

ہر 15 منٹ میں ایک خاتون ریپ کا نشانہ بنتی ہے

 

دلت اور قبائلی خواتین سب سے زیادہ نشانہ بنتی ہیں

 

متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر عام بات بن چکی ہے

 

 

ماضی کے لرزہ خیز واقعات

 

یہ واقعہ بھارت میں ہونے والے کئی ہولناک جرائم کی یاد دلاتا ہے:

 

نربھیا کیس (2012): دہلی میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور قتل

 

کٹھوعہ کیس (2018): 8 سالہ مسلم بچی کے ساتھ مندر میں زیادتی

 

حاترس کیس (2020): دلت لڑکی کا گینگ ریپ، زبان کاٹ دی گئی

 

 

انسانی حقوق کی تنظیموں کا شدید ردعمل

 

ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی عوام نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور اسے خواتین کے تحفظ میں مکمل ناکام قرار دیا ہے۔

 

ہندوتوا شدت پسندی — ایک ابھرتا خطرہ

 

یہ واقعہ محض ایک جرم نہیں بلکہ بھارت میں ہندوتوا نظریے کے زیر سایہ پروان چڑھتی انتہا پسندی کی ایک واضح مثال بھی ہے۔ ایسے عناصر کی پشت پناہی بعض اوقات سیاسی حلقوں سے بھی ملتی ہے، جس کے باعث نہ صرف انصاف کا عمل متاثر ہوتا ہے بلکہ اقلیتوں اور کمزور طبقات کے لیے زندگی مزید غیر محفوظ ہو جاتی ہے۔

 

ریاستی اداروں کی خاموشی: سوالات جنم لیتے ہیں

 

پولیس پانچ دن بعد بھی ملزمان تک کیوں نہیں پہنچی؟

 

میڈیا اس واقعے کو کوریج دینے سے گریزاں کیوں ہے؟

 

ریاستی وزیر اعلیٰ کی خاموشی کیا معنی رکھتی ہے؟

 

کیا ہندوتوا عناصر کے خوف سے عدلیہ بھی خاموش ہے؟

 

 

مظلوم خاندان کی پکار: “ہمیں انصاف دو!”

 

متاثرہ خاتون کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں مقامی پولیس پر اعتماد نہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی اعلیٰ سطح پر تفتیش ہو اور ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے۔ ان کا کہنا تھا:

 

> “ہماری بیٹی کو درندگی سے مارا گیا، اور اب ہمیں انصاف سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔”

 

 

 

نتیجہ: مودی سرکار کے “مہا بھارت” میں خواتین غیر محفوظ

 

اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ بھارت میں اقلیتوں، قبائلیوں اور خواتین کے لیے تحفظ محض ایک کھوکھلا دعویٰ ہے۔ جب تک ریاستی ادارے اور سیاسی قیادت حقیقی معنوں میں خواتین کے تحفظ کو ترجیح نہیں دیں گے، ایسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔

 

یہ سوال اب عالمی سطح پر اٹھ چکا ہے: کیا بھارت واقعی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے؟

بھارت میں درندگی کی انتہا: مدھیہ پردیش میں قبائلی خاتون کی اجتماعی زیادتی اور بہیمانہ قتل — مودی راج میں خواتین غیر محفوظ

ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن / نمائندہ مرزا مہران)
بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں انسانیت کو شرما دینے والا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ہندوتوا نظریے سے متاثر غنڈوں نے ایک بے بس قبائلی خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس پر ایسا بہیمانہ تشدد کیا کہ روح کانپ اٹھے۔

درندگی کی انتہا: خاتون کے جسم کو نوچ ڈالا گیا

تفصیلات کے مطابق ملزمان نہ صرف خاتون کی عصمت دری کرنے پر اکتفا نہ کر سکے بلکہ اپنی درندگی کی انتہا کرتے ہوئے خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہیں خاتون کے نجی اعضا میں لوہے کی سلاخیں گھسیڑنے سے بھی گریز نہ ہوا۔ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر اس کی کوکھ نکال دی اور اسے خون میں لت پت چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
خاتون نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ چشم دید گواہوں کے مطابق اس کا جسم بری طرح مسخ ہو چکا تھا اور جسمانی اعضا موقع پر بکھرے پڑے تھے۔

بی جے پی حکومت کی بے حسی، انصاف خواب بن گیا

یہ سانحہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دور حکومت میں خواتین کے تحفظ اور قانون کی عملداری پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ یہ واقعہ مودی حکومت کی خواتین مخالف پالیسیوں، پولیس کی بے حسی اور عدالتی نظام کی کمزوری کو عیاں کرتا ہے۔

ٹیبل: واقعہ کی تفصیل

تفصیل معلومات

ریاست مدھیہ پردیش، بھارت
متاثرہ خاتون قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والی
جرم کی نوعیت اجتماعی زیادتی، بہیمانہ قتل
ملزمان مبینہ ہندوتوا نظریے سے متاثر
طریقہ واردات جنسی زیادتی، لوہے کی سلاخ سے تشدد
مقام واردات جنگل کے قریب علاقہ
حکومتی ردعمل تاحال کوئی واضح موقف نہیں
عوامی ردعمل شدید غم و غصہ، سوشل میڈیا پر احتجاج

بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم بڑھتے جا رہے ہیں

گزشتہ چند برسوں میں بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کی رپورٹ کے مطابق:

ہر 15 منٹ میں ایک خاتون ریپ کا نشانہ بنتی ہے

دلت اور قبائلی خواتین سب سے زیادہ نشانہ بنتی ہیں

متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی میں تاخیر عام بات بن چکی ہے

ماضی کے لرزہ خیز واقعات

یہ واقعہ بھارت میں ہونے والے کئی ہولناک جرائم کی یاد دلاتا ہے:

نربھیا کیس (2012): دہلی میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور قتل

کٹھوعہ کیس (2018): 8 سالہ مسلم بچی کے ساتھ مندر میں زیادتی

حاترس کیس (2020): دلت لڑکی کا گینگ ریپ، زبان کاٹ دی گئی

انسانی حقوق کی تنظیموں کا شدید ردعمل

ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور بھارتی حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی عوام نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی ہے اور اسے خواتین کے تحفظ میں مکمل ناکام قرار دیا ہے۔

ہندوتوا شدت پسندی — ایک ابھرتا خطرہ

یہ واقعہ محض ایک جرم نہیں بلکہ بھارت میں ہندوتوا نظریے کے زیر سایہ پروان چڑھتی انتہا پسندی کی ایک واضح مثال بھی ہے۔ ایسے عناصر کی پشت پناہی بعض اوقات سیاسی حلقوں سے بھی ملتی ہے، جس کے باعث نہ صرف انصاف کا عمل متاثر ہوتا ہے بلکہ اقلیتوں اور کمزور طبقات کے لیے زندگی مزید غیر محفوظ ہو جاتی ہے۔

ریاستی اداروں کی خاموشی: سوالات جنم لیتے ہیں

پولیس پانچ دن بعد بھی ملزمان تک کیوں نہیں پہنچی؟

میڈیا اس واقعے کو کوریج دینے سے گریزاں کیوں ہے؟

ریاستی وزیر اعلیٰ کی خاموشی کیا معنی رکھتی ہے؟

کیا ہندوتوا عناصر کے خوف سے عدلیہ بھی خاموش ہے؟

مظلوم خاندان کی پکار: “ہمیں انصاف دو!”

متاثرہ خاتون کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں مقامی پولیس پر اعتماد نہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی اعلیٰ سطح پر تفتیش ہو اور ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے۔ ان کا کہنا تھا:

> “ہماری بیٹی کو درندگی سے مارا گیا، اور اب ہمیں انصاف سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔”

 

نتیجہ: مودی سرکار کے “مہا بھارت” میں خواتین غیر محفوظ

اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ بھارت میں اقلیتوں، قبائلیوں اور خواتین کے لیے تحفظ محض ایک کھوکھلا دعویٰ ہے۔ جب تک ریاستی ادارے اور سیاسی قیادت حقیقی معنوں میں خواتین کے تحفظ کو ترجیح نہیں دیں گے، ایسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔

یہ سوال اب عالمی سطح پر اٹھ چکا ہے: کیا بھارت واقعی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے؟

نوٹ: یہ خبر عوامی مفاد میں فراہم کی گئی ہے۔ اس میں شامل معلومات دستیاب ذرائع، رپورٹس یا عوامی بیانات پر مبنی ہیں۔ ادارہ اس خبر میں موجود کسی بھی دعوے یا رائے کی تصدیق یا تردید کا ذمہ دار نہیں ہے۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ حکام یا مستند ذرائع سے رجوع کریں۔