بھارت کی ریاستی دہشتگردی بے نقاب! وکی لیکس اور اعترافی بیانات نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا
بلوچستان میں ہونے والی تخریبی کارروائیاں، بم دھماکے، اور علیحدگی پسند عناصر کی مالی و فنی معاونت اب کوئی راز نہیں رہی۔ بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے شواہد ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر پوری شدت سے ابھر کر سامنے آئے ہیں، جس سے جنوبی ایشیا میں بھارتی عزائم پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔
—
وکی لیکس کا دھماکہ خیز انکشاف: عالمی طاقتیں جانتی تھیں؟
وکی لیکس کی حالیہ رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ امریکی سفارتی کیبلز کے مطابق بین الاقوامی مبصرین ایک عرصے سے پاکستان میں جاری بھارتی خفیہ سرگرمیوں سے آگاہ تھے۔ یہ کیبلز اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ:
2009 میں مصر میں پاک-بھارت مذاکرات کے دوران پاکستان نے بھارتی مداخلت کا معاملہ اٹھایا۔
2015 اور 2019 میں اقوام متحدہ کو بھارتی دہشتگردی کے ثبوت پر مبنی ڈوزیئرز دیئے گئے۔
2023 میں پاکستانی سرزمین پر بھارتی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں سے متعلق شواہد عالمی اداروں تک پہنچائے گئے۔
—
کلبھوشن یادیو کا اعتراف: بھارت کا چہرہ بے نقاب
سال 2016 میں ”را“ کا حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو بلوچستان سے گرفتار ہوا۔ اس کی تفتیشی ویڈیوز اور بیانات میں شامل انکشافات نے بھارت کی بلوچستان میں دہشتگردی کے نیٹ ورک کا پردہ چاک کیا۔ کلبھوشن نے خود اقرار کیا:
علیحدگی پسند تنظیموں کو فنڈنگ، تربیت اور ہتھیار فراہم کرنا
حساس مقامات پر بم دھماکوں کی منصوبہ بندی
پاکستان کو اندرونی خلفشار میں مبتلا کرنا بھارت کا ہدف
—
اقوام متحدہ میں ثبوت: پاکستان کا موقف مضبوط
پاکستان نے نہ صرف داخلی سطح پر کارروائیاں کیں بلکہ بین الاقوامی فورمز پر بھی یہ مسئلہ بار بار اٹھایا۔ خاص طور پر:
2015: بھارت کی خفیہ کارروائیوں پر مبنی پہلا ڈوزیئر اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا۔
2019: مزید شواہد پر مبنی دوسرا مکمل ڈوزیئر پیش کیا گیا، جس میں بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کی منصوبہ بندی واضح کی گئی۔
2023: بلوچستان میں سرگرم تخریب کار سرفراز بنگل زئی اور گلزار امام شمبے کے اعترافی بیانات نے بھارت کی مداخلت کو مزید بے نقاب کیا۔
—
جدول: بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے اہم شواہد
سال واقعہ تفصیل
2009 پاک-بھارت مذاکرات مصر میں بھارت کی بلوچستان مداخلت کا معاملہ زیرِ بحث
2015 پہلا ڈوزیئر اقوام متحدہ میں بھارتی مداخلت کے شواہد
2016 کلبھوشن یادیو گرفتار تخریب کاری اور را سے روابط کا اعتراف
2019 دوسرا ڈوزیئر بلوچستان میں بھارتی کارروائیوں کے مزید شواہد
2023 سرفراز بنگل زئی اور گلزار امام کے اعترافات را کی ہدایات اور تربیت کا انکشاف
—
تجزیہ: دنیا خاموش کیوں؟
بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق، دہشتگردی کے خلاف جنگ، اور خطے کے امن و استحکام پر بات کرنے والی طاقتیں اب تک بھارتی دہشتگردی پر کیوں خاموش ہیں؟
کیا بھارت کی معاشی طاقت ان کے ضمیر پر بھاری ہے؟
کیا جنوبی ایشیا کی امن کی تباہی کو نظر انداز کرنا عالمی امن کو خطرے میں نہیں ڈالے گا؟
تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ:
بھارت کی بلوچستان میں مداخلت ایک جارحانہ ریاستی پالیسی ہے۔
عالمی برادری کو نہ صرف اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے بلکہ بھارت کو ان اقدامات پر جوابدہ بھی ٹھہرایا جانا چاہیے۔
—
نتیجہ: اب خاموشی نہیں، انصاف ضروری ہے
پاکستان کا موقف وقت کے ساتھ مزید واضح اور مضبوط ہوا ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس، گرفتار شدگان کے اعترافات اور اقوام متحدہ کو دی گئی دستاویزات اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت جنوبی ایشیا میں بدامنی پھیلانے کا مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
اب عالمی طاقتوں کو دو ٹوک فیصلہ کرنا ہوگا: یا تو وہ امن کے ساتھ کھڑی ہوں، یا بھارتی دہشتگردی کی خاموش تائید جاری رکھیں۔
بھارت کی ریاستی دہشتگردی بے نقاب! وکی لیکس اور اعترافی بیانات نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا
بلوچستان میں ہونے والی تخریبی کارروائیاں، بم دھماکے، اور علیحدگی پسند عناصر کی مالی و فنی معاونت اب کوئی راز نہیں رہی۔ بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے شواہد ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر پوری شدت سے ابھر کر سامنے آئے ہیں، جس سے جنوبی ایشیا میں بھارتی عزائم پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں۔
—
وکی لیکس کا دھماکہ خیز انکشاف: عالمی طاقتیں جانتی تھیں؟
وکی لیکس کی حالیہ رپورٹ نے تہلکہ مچا دیا ہے۔ امریکی سفارتی کیبلز کے مطابق بین الاقوامی مبصرین ایک عرصے سے پاکستان میں جاری بھارتی خفیہ سرگرمیوں سے آگاہ تھے۔ یہ کیبلز اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ:
2009 میں مصر میں پاک-بھارت مذاکرات کے دوران پاکستان نے بھارتی مداخلت کا معاملہ اٹھایا۔
2015 اور 2019 میں اقوام متحدہ کو بھارتی دہشتگردی کے ثبوت پر مبنی ڈوزیئرز دیئے گئے۔
2023 میں پاکستانی سرزمین پر بھارتی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں سے متعلق شواہد عالمی اداروں تک پہنچائے گئے۔
—
کلبھوشن یادیو کا اعتراف: بھارت کا چہرہ بے نقاب
سال 2016 میں ”را“ کا حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو بلوچستان سے گرفتار ہوا۔ اس کی تفتیشی ویڈیوز اور بیانات میں شامل انکشافات نے بھارت کی بلوچستان میں دہشتگردی کے نیٹ ورک کا پردہ چاک کیا۔ کلبھوشن نے خود اقرار کیا:
علیحدگی پسند تنظیموں کو فنڈنگ، تربیت اور ہتھیار فراہم کرنا
حساس مقامات پر بم دھماکوں کی منصوبہ بندی
پاکستان کو اندرونی خلفشار میں مبتلا کرنا بھارت کا ہدف
—
اقوام متحدہ میں ثبوت: پاکستان کا موقف مضبوط
پاکستان نے نہ صرف داخلی سطح پر کارروائیاں کیں بلکہ بین الاقوامی فورمز پر بھی یہ مسئلہ بار بار اٹھایا۔ خاص طور پر:
2015: بھارت کی خفیہ کارروائیوں پر مبنی پہلا ڈوزیئر اقوام متحدہ میں پیش کیا گیا۔
2019: مزید شواہد پر مبنی دوسرا مکمل ڈوزیئر پیش کیا گیا، جس میں بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کی منصوبہ بندی واضح کی گئی۔
2023: بلوچستان میں سرگرم تخریب کار سرفراز بنگل زئی اور گلزار امام شمبے کے اعترافی بیانات نے بھارت کی مداخلت کو مزید بے نقاب کیا۔
—
جدول: بھارت کی ریاستی دہشتگردی کے اہم شواہد
سال واقعہ تفصیل
2009 پاک-بھارت مذاکرات مصر میں بھارت کی بلوچستان مداخلت کا معاملہ زیرِ بحث
2015 پہلا ڈوزیئر اقوام متحدہ میں بھارتی مداخلت کے شواہد
2016 کلبھوشن یادیو گرفتار تخریب کاری اور را سے روابط کا اعتراف
2019 دوسرا ڈوزیئر بلوچستان میں بھارتی کارروائیوں کے مزید شواہد
2023 سرفراز بنگل زئی اور گلزار امام کے اعترافات را کی ہدایات اور تربیت کا انکشاف
—
تجزیہ: دنیا خاموش کیوں؟
بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق، دہشتگردی کے خلاف جنگ، اور خطے کے امن و استحکام پر بات کرنے والی طاقتیں اب تک بھارتی دہشتگردی پر کیوں خاموش ہیں؟
کیا بھارت کی معاشی طاقت ان کے ضمیر پر بھاری ہے؟
کیا جنوبی ایشیا کی امن کی تباہی کو نظر انداز کرنا عالمی امن کو خطرے میں نہیں ڈالے گا؟
تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ:
بھارت کی بلوچستان میں مداخلت ایک جارحانہ ریاستی پالیسی ہے۔
عالمی برادری کو نہ صرف اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے بلکہ بھارت کو ان اقدامات پر جوابدہ بھی ٹھہرایا جانا چاہیے۔
—
نتیجہ: اب خاموشی نہیں، انصاف ضروری ہے
پاکستان کا موقف وقت کے ساتھ مزید واضح اور مضبوط ہوا ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس، گرفتار شدگان کے اعترافات اور اقوام متحدہ کو دی گئی دستاویزات اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت جنوبی ایشیا میں بدامنی پھیلانے کا مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
اب عالمی طاقتوں کو دو ٹوک فیصلہ کرنا ہوگا: یا تو وہ امن کے ساتھ کھڑی ہوں، یا بھارتی دہشتگردی کی خاموش تائید جاری رکھیں۔















Leave a Reply