کراچی (نیوز ڈیسک) — پاکستان میں ایک بار پھر پیٹرول بحران سر اٹھاتا نظر آ رہا ہے، اور اس بار خطرہ پہلے سے بھی زیادہ شدید محسوس کیا جا رہا ہے۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ملک بھر میں تمام پیٹرول پمپس بند کرنے کی دھمکی نے عوام اور حکومت دونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اگر یہ ہڑتال طویل ہوئی تو عوام کو سفری مشکلات کے ساتھ ساتھ معاشی جھٹکوں کا بھی سامنا کرنا پڑے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی نے پہلے ہی ہر طبقہ زندگی کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔
—
حکومتی اصلاحات یا ڈیلرز پر جبر؟
چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن عبدالسمیع خان نے کراچی پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:
> “حکومت پیٹرولیم ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے بیورو کریسی کو اضافی اختیارات دے کر کرپشن کا نیا دروازہ کھول رہی ہے۔ اگر ہمیں زبردستی دبانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس بند کر دیے جائیں گے۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وفاقی حکومت کی جانب سے ترمیم شدہ پیٹرولیم ایکٹ کے تحت ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کو پیٹرول پمپس کی جانچ پڑتال، سیل اور جرمانے کے اختیارات دیے گئے۔
—
حالیہ تنازع کا پس منظر
عنصر تفصیل
تنازع کی وجہ پیٹرولیم ایکٹ میں نئی ترمیمات
متاثرہ فریقین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن، حکومت، عوام
خطرہ ملک بھر میں پیٹرول پمپس کی بندش
متنازع ترمیم بیوروکریسی کو پمپ سیل اور زمین ضبط کرنے کا اختیار
موجودہ حالات 40 فیصد ایرانی ڈیزل کی غیرقانونی فروخت جاری
—
ڈیلرز کے تحفظات: کیا واقعی کرپشن بڑھے گی؟
پیٹرولیم ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ مجوزہ ترامیم کے بعد افسران کو من مانی کرنے کا اختیار مل جائے گا، جس سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوگا بلکہ شفافیت بھی ختم ہو جائے گی۔
عبدالسمیع خان نے کہا:
ایک پمپ پر اگر کسی معمولی خلاف ورزی کی شکایت بھی آئی تو وہ بغیر عدالتی کارروائی کے بند کیا جا سکتا ہے
زمین ضبط ہونے اور جرمانے کی سزا کروڑوں روپے تک جا سکتی ہے
ایسے سخت اقدامات سے قانونی کاروبار بھی متاثر ہوگا اور غیرقانونی اسمگلنگ کو فروغ ملے گا
—
بیوروکریسی کے بڑھتے ہوئے اختیارات: ایک اور تنازع
ممبر ایسوسی ایشن راجہ وسیم کے مطابق:
> “ہم اسمگلنگ کے خلاف ہیں اور حکومت کے اقدامات کا ساتھ دینا چاہتے ہیں، مگر اگر ہر پمپ کو کرپٹ یا غیرقانونی سمجھا جائے گا تو یہ انصاف نہیں ہوگا۔”
انھوں نے کہا کہ ہر خلاف ورزی پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ اور زمین کی ضبطی کا امکان ناقابلِ قبول ہے۔ اگر ان اقدامات کو زبردستی لاگو کیا گیا تو احتجاج ناگزیر ہوگا۔
—
عوامی خدشات: پہلے مہنگائی، اب پیٹرول کا بحران؟
پیٹرول پمپس کی بندش کی خبر نے عوام میں خوف کی لہر دوڑا دی ہے۔ کئی شہروں میں لوگ پہلے ہی پیٹرول جمع کرنے کے لیے پمپس کا رخ کر رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور ڈیلرز کے درمیان یہ جنگ عوام کو پیس رہی ہے
اگر ہڑتال ہوئی تو ٹرانسپورٹ بند ہو جائے گی، ملازمین، طلبہ اور مریض شدید متاثر ہوں گے
اشیائے خوردونوش کی ترسیل رکنے سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے
—
حکومتی مؤقف اور آئندہ کے اقدامات
پیٹرولیم وزارت نے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کو حکومت اور ڈیلرز کے درمیان اہم مذاکرات متوقع ہیں۔
> “اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ہڑتال کا اعلان فوری ہو سکتا ہے، جس سے ملک گیر پیٹرول بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔”
—
اسمگلنگ کی حقیقت: کون ہے اصل مجرم؟
وائس چیئرمین ملک خدابخش کا کہنا تھا:
> “ملک کے اندر اس وقت 40 فیصد ایرانی اسمگل شدہ ڈیزل فروخت ہو رہا ہے، حکومت صرف قانونی پمپس کو نشانہ بنا رہی ہے۔”
یہ بیان حکومتی حکمت عملی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر اسمگلنگ جاری ہے تو کیا اصل کارروائی قانونی کاروبار پر ہونی چاہیے یا غیرقانونی سپلائی پر؟
—
ممکنہ نتائج: کیا واقعی بحران جنم لے گا؟
اگر پیٹرول پمپس بند ہو گئے تو:
ٹرانسپورٹ مکمل بند ہو سکتی ہے
کاروباری نظام متاثر ہو گا
ایمرجنسی سروسز مثلاً ایمبولینس، پولیس، فائر بریگیڈ مشکلات کا شکار ہوں گی
روزمرہ کے کاموں میں شدید رکاوٹ آ جائے گی
—
آخری سوال: عوام کو کون بچائے گا؟
یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ جب بھی حکومتی پالیسیوں میں رد و بدل کیا جاتا ہے، اس کے اثرات عوام پر براہِ راست پڑتے ہیں۔ اس وقت بھی اگر حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل نہ کر سکے، تو آنے والے دن پاکستان کے عوام کے لیے مزید پریشانیاں لے کر آ سکتے ہیں۔
کراچی (نیوز ڈیسک) — پاکستان میں ایک بار پھر پیٹرول بحران سر اٹھاتا نظر آ رہا ہے، اور اس بار خطرہ پہلے سے بھی زیادہ شدید محسوس کیا جا رہا ہے۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ملک بھر میں تمام پیٹرول پمپس بند کرنے کی دھمکی نے عوام اور حکومت دونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اگر یہ ہڑتال طویل ہوئی تو عوام کو سفری مشکلات کے ساتھ ساتھ معاشی جھٹکوں کا بھی سامنا کرنا پڑے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی نے پہلے ہی ہر طبقہ زندگی کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔
—
حکومتی اصلاحات یا ڈیلرز پر جبر؟
چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن عبدالسمیع خان نے کراچی پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:
> “حکومت پیٹرولیم ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے بیورو کریسی کو اضافی اختیارات دے کر کرپشن کا نیا دروازہ کھول رہی ہے۔ اگر ہمیں زبردستی دبانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس بند کر دیے جائیں گے۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وفاقی حکومت کی جانب سے ترمیم شدہ پیٹرولیم ایکٹ کے تحت ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کو پیٹرول پمپس کی جانچ پڑتال، سیل اور جرمانے کے اختیارات دیے گئے۔
—
حالیہ تنازع کا پس منظر
عنصر تفصیل
تنازع کی وجہ پیٹرولیم ایکٹ میں نئی ترمیمات
متاثرہ فریقین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن، حکومت، عوام
خطرہ ملک بھر میں پیٹرول پمپس کی بندش
متنازع ترمیم بیوروکریسی کو پمپ سیل اور زمین ضبط کرنے کا اختیار
موجودہ حالات 40 فیصد ایرانی ڈیزل کی غیرقانونی فروخت جاری
—
ڈیلرز کے تحفظات: کیا واقعی کرپشن بڑھے گی؟
پیٹرولیم ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ مجوزہ ترامیم کے بعد افسران کو من مانی کرنے کا اختیار مل جائے گا، جس سے نہ صرف کاروبار متاثر ہوگا بلکہ شفافیت بھی ختم ہو جائے گی۔
عبدالسمیع خان نے کہا:
ایک پمپ پر اگر کسی معمولی خلاف ورزی کی شکایت بھی آئی تو وہ بغیر عدالتی کارروائی کے بند کیا جا سکتا ہے
زمین ضبط ہونے اور جرمانے کی سزا کروڑوں روپے تک جا سکتی ہے
ایسے سخت اقدامات سے قانونی کاروبار بھی متاثر ہوگا اور غیرقانونی اسمگلنگ کو فروغ ملے گا
—
بیوروکریسی کے بڑھتے ہوئے اختیارات: ایک اور تنازع
ممبر ایسوسی ایشن راجہ وسیم کے مطابق:
> “ہم اسمگلنگ کے خلاف ہیں اور حکومت کے اقدامات کا ساتھ دینا چاہتے ہیں، مگر اگر ہر پمپ کو کرپٹ یا غیرقانونی سمجھا جائے گا تو یہ انصاف نہیں ہوگا۔”
انھوں نے کہا کہ ہر خلاف ورزی پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ اور زمین کی ضبطی کا امکان ناقابلِ قبول ہے۔ اگر ان اقدامات کو زبردستی لاگو کیا گیا تو احتجاج ناگزیر ہوگا۔
—
عوامی خدشات: پہلے مہنگائی، اب پیٹرول کا بحران؟
پیٹرول پمپس کی بندش کی خبر نے عوام میں خوف کی لہر دوڑا دی ہے۔ کئی شہروں میں لوگ پہلے ہی پیٹرول جمع کرنے کے لیے پمپس کا رخ کر رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور ڈیلرز کے درمیان یہ جنگ عوام کو پیس رہی ہے
اگر ہڑتال ہوئی تو ٹرانسپورٹ بند ہو جائے گی، ملازمین، طلبہ اور مریض شدید متاثر ہوں گے
اشیائے خوردونوش کی ترسیل رکنے سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے
—
حکومتی مؤقف اور آئندہ کے اقدامات
پیٹرولیم وزارت نے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کو حکومت اور ڈیلرز کے درمیان اہم مذاکرات متوقع ہیں۔
> “اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ہڑتال کا اعلان فوری ہو سکتا ہے، جس سے ملک گیر پیٹرول بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔”
—
اسمگلنگ کی حقیقت: کون ہے اصل مجرم؟
وائس چیئرمین ملک خدابخش کا کہنا تھا:
> “ملک کے اندر اس وقت 40 فیصد ایرانی اسمگل شدہ ڈیزل فروخت ہو رہا ہے، حکومت صرف قانونی پمپس کو نشانہ بنا رہی ہے۔”
یہ بیان حکومتی حکمت عملی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگر اسمگلنگ جاری ہے تو کیا اصل کارروائی قانونی کاروبار پر ہونی چاہیے یا غیرقانونی سپلائی پر؟
—
ممکنہ نتائج: کیا واقعی بحران جنم لے گا؟
اگر پیٹرول پمپس بند ہو گئے تو:
ٹرانسپورٹ مکمل بند ہو سکتی ہے
کاروباری نظام متاثر ہو گا
ایمرجنسی سروسز مثلاً ایمبولینس، پولیس، فائر بریگیڈ مشکلات کا شکار ہوں گی
روزمرہ کے کاموں میں شدید رکاوٹ آ جائے گی
—
آخری سوال: عوام کو کون بچائے گا؟
یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ جب بھی حکومتی پالیسیوں میں رد و بدل کیا جاتا ہے، اس کے اثرات عوام پر براہِ راست پڑتے ہیں۔ اس وقت بھی اگر حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل نہ کر سکے، تو آنے والے دن پاکستان کے عوام کے لیے مزید پریشانیاں لے کر آ سکتے ہیں۔















Leave a Reply