پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ: ویپ اور الیکٹرانک سگریٹس پر مکمل پابندی، خلاف ورزی پر چھ ماہ قید اور لاکھوں کا جرمانہ

6 / 100 SEO Score

پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں ویپنگ (Vaping) اور الیکٹرانک سگریٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال پر سخت ایکشن لیتے ہوئے ان کی فروخت، خریداری اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی منظوری کے بعد اُٹھایا گیا ہے، جسے عوامی صحت اور نوجوان نسل کے مستقبل کے تحفظ کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

 

 

 

🔥 ویپ پر پابندی کیوں؟ نوجوان نسل کا مستقبل داؤ پر

 

ویپ، ای سگریٹس اور دیگر الیکٹرانک نکوٹین ڈیوائسز گزشتہ چند برسوں سے نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو چکی تھیں۔ ماہرین صحت کے مطابق ان مصنوعات میں استعمال ہونے والے کیمیکلز دماغی نشوونما، سانس کی بیماریوں اور دل کے مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے انہی خطرات کے پیش نظر فوری اور فیصلہ کن اقدام اٹھایا۔

 

وزیراعلیٰ مریم نواز نے بیان میں کہا:

 

> “ہم اپنی نسلوں کو زہریلی عادتوں سے بچانا چاہتے ہیں۔ ویپنگ نوجوانوں کو سگریٹ اور نشے کی طرف لے جانے والا پہلا زینہ ہے، جسے ہم جڑ سے ختم کریں گے۔”

 

 

 

 

 

📋 قانون کی تفصیلات: کتنی سزا اور کتنا جرمانہ؟

 

حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں درج ذیل سزائیں واضح کی گئی ہیں:

 

خلاف ورزی کی نوعیت سزا

 

ویپ یا ای سگریٹ بیچنا 6 ماہ قید + 5 لاکھ روپے جرمانہ

ویپ یا ای سگریٹ خریدنا 1 ماہ قید + 50 ہزار روپے جرمانہ

ویپنگ سینٹرز کھولنا دکان سیل + مقدمہ درج

تشہیر کرنا (آن لائن/آف لائن) 2 لاکھ روپے جرمانہ

 

 

 

 

🛑 کون سے ادارے کریں گے کارروائی؟

 

پنجاب فوڈ اتھارٹی

 

ضلعی انتظامیہ

 

محکمہ صحت

 

محکمہ تعلیم (اسکول و کالج لیول پر نگرانی)

 

پولیس و سیکیورٹی ادارے

 

 

ان تمام اداروں کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا گیا ہے کہ وہ مارکیٹوں، تعلیمی اداروں کے اطراف، شاپنگ مالز اور آن لائن سٹورز کی سخت نگرانی کریں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاتاخیر کارروائی کریں۔

 

 

 

🧪 طبی ماہرین کی رائے: ویپنگ “خاموش قاتل”

 

ماہرین طب کے مطابق ویپنگ بظاہر ایک “محفوظ” متبادل دکھائی دیتی ہے، لیکن درحقیقت اس میں نکوٹین، پروپیلین گلائکول، فلیورنگ ایجنٹس اور دیگر مضر کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جو:

 

پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتے ہیں

 

نوجوانوں میں نکوٹین کی لت کا باعث بنتے ہیں

 

دماغی نشوونما متاثر کرتے ہیں

 

دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی پیدا کرتے ہیں

 

 

 

 

📉 نوجوانوں میں ویپنگ کا رجحان اور خطرناک اعداد و شمار

 

ایک حالیہ سروے کے مطابق:

 

پنجاب میں 14 سے 25 سال کے نوجوانوں میں 32% ویپ یا ای سگریٹس کا استعمال کر چکے ہیں

 

یونیورسٹی اور کالج کی سطح پر ویپنگ کو فیشن سمجھا جانے لگا ہے

 

سوشل میڈیا پر “Vape Challenges” اور “Smoke Tricks” جیسے رجحانات نے نوجوانوں کو اس طرف مائل کیا

 

 

یہی رجحانات حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گئے، جس کے بعد پابندی ناگزیر سمجھی گئی۔

 

 

 

🏫 تعلیمی اداروں میں خصوصی مہم

 

محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکول، کالج، اور یونیورسٹی سطح پر ایک خصوصی “Anti-Vape Awareness Campaign” کا آغاز بھی کیا جا رہا ہے۔ اس مہم کے تحت:

 

لیکچرز

 

پوسٹرز

 

ویڈیوز

 

والدین اور اساتذہ کے لیے آگاہی سیمینارز

 

 

کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ اس لت کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

 

 

 

💬 عوام کا ملا جلا ردعمل

 

کچھ حلقے حکومت کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ صارفین اسے نوجوانوں کی آزادی پر قدغن سمجھتے ہیں۔

 

ایک طالبعلم علی حسن کا کہنا تھا:

 

> “ویپ کا استعمال مجھ جیسے بہت سے نوجوان صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ سگریٹ سے بچنا چاہتے ہیں، لیکن اب متبادل بھی چھین لیا گیا ہے۔”

 

 

 

جبکہ ایک ماں نے رائے دی:

 

> “میرا بیٹا روز ویپنگ کرتا تھا، اب امید ہے کہ یہ بری عادت چھوٹ جائے گی۔ میں حکومت کے اس فیصلے کی مکمل حمایت کرتی ہوں۔”

 

 

 

 

 

⚖️ آن لائن ویپنگ مارکیٹ پر شکنجہ

 

حکومت نے واضح کیا ہے کہ آن لائن ویپنگ مصنوعات فروخت کرنے والے سٹورز، فیس بک گروپس، اور انسٹاگرام پیجز کو بھی بلاک اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ PTA اور FIA کو بھی اس ضمن میں ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

 

 

 

✅ متبادل کی تلاش اور بحالی مراکز

 

پنجاب حکومت نکوٹین چھڑوانے کے لیے بحالی مراکز (Rehab Centers) کے قیام کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے جہاں نوجوانوں کو مفت علاج، مشاورت اور نفسیاتی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

 

 

 

🔚 اختتامیہ: یہ وقت ہے بیدار ہونے کا!

 

ویپنگ یا ای سگریٹس ایک “سافٹ ڈرگ” کے طور پر نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی تھی۔ پنجاب حکومت نے بروقت اور سخت اقدام اٹھا کر ایک واضح پیغام دیا ہے کہ عوام کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

 

اگر معاشرہ، والدین، اساتذہ اور نوجوان خود بھی اس اقدام کا ساتھ دیں تو ہم ایک صحت مند، نکوٹین فری اور باشعور پنجاب کی جانب قدم بڑھا سکتے ہیں۔

 

 

نوٹ: یہ خبر عوامی مفاد میں فراہم کی گئی ہے۔ اس میں شامل معلومات دستیاب ذرائع، رپورٹس یا عوامی بیانات پر مبنی ہیں۔ ادارہ اس خبر میں موجود کسی بھی دعوے یا رائے کی تصدیق یا تردید کا ذمہ دار نہیں ہے۔ تمام قارئین سے گزارش ہے کہ حتمی رائے قائم کرنے سے قبل متعلقہ حکام یا مستند ذرائع سے رجوع کریں۔